غلام حسین ساجد ۔۔۔ غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے

غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے خاموش ہو گئے ہیں کہ اِس میں بھَلائی ہے نکلی تھی صبح چہچہے سُن کر طیور کے آتے ہی شام بادِ صبا لَوٹ آئی ہے دیتے ہیں درس وہ مجھے دنیا سے ربط کا کیا یہ سزا کے بھیس میں اذنِ رہائی ہے اُس نے وہیں چراغِ ملامت جلایا ہے ہم نے جہاں جہاں کوئی بستی بسائی ہے کس نے مِرے وجود کو سائے میں لے لیا دیوار اِس نواح میں کس نے اُٹھائی ہے کہنی ہے تلخ بات کوئی اِس فقیر کو…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ سوچ سے ماورا اندھیرا ہے

سوچ سے ماورا اندھیرا ہے دھوپ کی انتہا اندھیرا ہے خواب میں جاگنا قیامت ہے نیند کا مسئلہ اندھیرا ہے مَیں چراغوں کا چاہنے والا میرے حق میں دُعا اندھیرا ہے صبح ہے، صبح کا اُجالا ہے رات ہے، رات کا اندھیرا ہے کارواں پاس ہے کہیں کوئی گنگناتا ہُوا اندھیرا ہے رات رخصت ہوئی ہے عُجلت میں طاق پر اَدھ جلا اندھیرا ہے آج کِس کا لہو بہایا گیا آج تو بے بہا اندھیرا ہے دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہے دیکھتا بھالتا اندھیرا ہے روشنی داغ ہے مِرے دل…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں

ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں کیا یہ فشارِ ذات ہے، کیا یہ جُنوں نہیں شاید کہیں قرار مِلے مجھ فقیر کو شاید کسی کا ہو سکوں، اپنا تو ہُوں نہیں الزام آ رہا ہے مِری بے نوائی پر تو کیا مَیں اب جواب میں کچھ بھی کہوں نہیں پہچاننے لگے ہیں سبھی آئنے مجھے اب اور اِس نواح میں شاید رہوں نہیں پیروں تلے زمین ہے پانی بَنی ہوئی سر پر جو آسمان ہے وہ بے ستوں نہیں مَیں روشنی پہ داغ ہوں وہ میری ذات…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم

کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم گزر رہا ہوں کہاں سے مجھے نہیں معلوم لپک کے کیسے کسی خواب کو سنبھالنا ہے مجھے یہ رمز ہوئی آپ کے تئیں معلوم عجیب خوف ہے جاتا ہے اور نہ مِٹتا ہے لرز رہی ہے ابھی تک وہ شہ نشیں معلوم دمک رہے ہیں ستارے تمھاری آنکھوں کے مہک رہی ہے اندھیرے میں یاسمیں معلوم تمام رات سیاہی سے جُھوجَھتا ہے فلک سحر کے بعد یہ ہوتا ہے نیلمیں معلوم خود اپنی ذات کا اثبات کر رہا ہوں مَیں ہے…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ حصارِ خواب سے باہر مرا دھواں پہنچا

حصارِ خواب سے باہر مرا دھواں پہنچا مَیں رات نیند میں چلتے ہوئے کہاں پہنچا مِرے عمل نے مِرے روز و شب بدل ڈالے مجھے تو اپنی تگ و تاز سے زیاں پہنچا کسی بچھڑتے ہوئے خواب کی رفاقت کو مِرے یقین سے پہلے مِرا گماں پہنچا تمام رات درختوں نے انتظار کِیا پرندے لَوٹ کر آئے نہ کارواں پہنچا کسی نے ساری طلسمات کو بدل ڈالا مَیں بامِ یار تلک جب بھی پَرفشاں پہنچا مجھے تو وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا مگر مَیں اور بھی تاخیر سے وہاں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا

کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا سو مَیں جمالِ شبِ خواب سے دوبارہ مِلا نہیں تو اپنے ہی سائے پہ گِر پڑی ہوتی مِرے وجود سے دیوار کو سہارا مِلا پلٹ کے دیکھنا ممکن نہیں کہ وحشت میں کہاں کسی کو کسی یاد کا کنارا مِلا کسی طرح مجھے تقسیم کر دیا اُس نے کسی کو آدھا مِلا اور کسی کو سارا مِلا تمام رات جب آنکھوں میں کاٹ لی مَیں نے سحر کے وقت مجھے کوچ کا اشارہ مِلا عدو پہ فتح کی ساعت قریب جب آئی مِرا…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ غلام حسین ساجد

نعت سیّد الانبیاء آپ خیرالورا، اے رسولِ خدا، اے حبیبِ خدا آپ کی روشنی سے مُنّور ہُوا، میرے دل کا دِیا، اے حبیبِ خدا سبز گنبد کے سائے میں آتے ہوئے کچھ چراغوں کی سوغات پاتے ہوئے میرے لب پر فقط آپ کا نام تھا، بَر بنائے شفا، اے حبیبِ خدا ظلمتِ دہر کو چاک کرتے ہوئے، کعبۃُ اللہ کو پاک کرتے ہوئے آپ کے خلق سے آئنہ بن گیا، قلب ہر شخص کا، اے حبیبِ خدا آپ کے واسطے یہ زمانے بَنے، کہکشائیں بَنیں، کارخانے بَنے جن کے ہونے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ غلام حسین ساجد

نعت کارِ دنیا سے دامن بچاتے ہوئے، آپ کے در سے خیرات پاتے ہوئے آپ کی روشنی میں نہاؤں گا مَیں، سبز گنبد کے سائے میں آتے ہوئے گاہے رُکتا ہوں حدّت بھری ریت پر، گاہے چلتا ہوں مستی میں بارِ دگر اِس لیے شوق سے دیکھتے ہیں مجھے چاند تارے مدینے کو جاتے ہوئے پھول کِھلنے لگے، پیڑ چلنے لگے، ساری دنیا کے موسم بدلنے لگے آپ کی مسکراہٹ امر ہو گئی نقشِ باطل کو دل سے مِٹاتے ہوئے آپ کے ہر عمل کا ہے ضامن خدا، آپ خیرالورا،…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا

کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا سو مَیں جمالِ شبِ خواب سے دوبارہ مِلا نہیں تو اپنے ہی سائے پہ گِر پڑی ہوتی مِرے وجود سے دیوار کو سہارا مِلا پلٹ کے دیکھنا ممکن نہیں کہ وحشت میں کہاں کسی کو کسی یاد کا کنارا مِلا کسی طرح مجھے تقسیم کر دیا اُس نے کسی کو آدھا مِلا اور کسی کو سارا مِلا تمام رات جب آنکھوں میں کاٹ لی مَیں نے سحر کے وقت مجھے کوچ کا اشارہ مِلا عدو پہ فتح کی ساعت قریب جب آئی مِرا…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ حصارِ خواب سے باہر مِرا دھواں پہنچا

حصارِ خواب سے باہر مِرا دھواں پہنچا مَیں رات نیند میں چلتے ہوئے کہاں پہنچا مِرے عمل نے مِرے روز و شب بدل ڈالے مجھے تو اپنی تگ و تاز سے زیاں پہنچا کسی بِچھڑتے ہوئے خواب کی رفاقت کو مِرے یقین سے پہلے مِرا گماں پہنچا تمام رات درختوں نے انتظار کِیا پرندے لَوٹ کر آئے نہ کارواں پہنچا کسی نے ساری طلسمات کو بدل ڈالا مَیں بامِ یار تلک جب بھی پَرفشاں پہنچا مجھے تو وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا مگر مَیں اور بھی تاخیر سے وہاں…

Read More