فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے ہمارے شہر کا موسم عجب ہے وہ دیکھو ماہِ رخشاں بادلوں سے لپٹ کر کس قدر محوِ طرب ہے پئے عرفانِ منزل، گمرہوں کو کہیں ہم جو بھی کچھ، لہو و لعب ہے کچھار اپنی بنا لو حفظِ جہاں کو نگر میں اب یہی جینے کا ڈھب ہے ہمارے ہی لئے کیوں ایک ماجد مزاجِ دہر میں رنج و تعب ہے
Read MoreTag: ماجد صدیقی کے اشعار
ماجد صدیقی ۔۔۔ وقت دکھا دے شاید کوئی بھولی بسری شام
وقت دکھا دے شاید کوئی بھولی بسری شام شام کوئی اُس کی آنکھوں میں کاجل جیسی شام چہرہ چہرہ سہم سے یوں بیدم ہے جیسے آج جسم چچوڑنے آئی ہو نگری میں اُتری شام سُکھ سپنوں کے پیڑ پہ ہے پھر چڑیوں جیسا شور پھر پھنکار اُٹھی جیسے ناگن سی بپھری شام کرب و الم کا نحس گہن یوں دن پر پھیل گیا آج کی شام سے آن ملی محشر سی گزری شام کیا کیا حدّت کس کس ذرّے نے ہتھیائی ہے پوچھ کے آئی سورج کے پہلو سے نکلی…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے دل بالک، من جائے گا بہلانے سے ٹھہرا ہے بہتان کہاں نام اچّھوں کے اُجڑا ہے کب چاند بھلا گہنانے سے راس جسے دارو نہ کوئی آیا اُس کے روگ مٹیں گے، اب تعویذ پلانے سے چیخ میں کیا کیا درد پروئے چُوزے نے بھوکی چیل کے پنجوں میں آ جانے سے اب تو خدشہ یہ ہے ہونٹ نہ جل جائیں ماجدؔ دل کی بات زباں پر لانے سے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ شبِ سیاہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے
شبِ سیاہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے ذرا سا ہے پہ نہ ہونے کا اور ہونے کا ثبوت ہے تو فقط خواہشِ گناہ میں ہے جو بے ضرر ہے اُسے جبر سے اماں کیسی یہاں تو جبر ہی بس جبر کی پناہ میں ہے زمیں کس آن نجانے تہِ قدم نہ رہے یہی گماں ہے جو لاحق تمام راہ میں ہے نجانے نرغۂ گرگاں سے کب نکل پائے کنارِ دشت جو خیمہ، شبِ سیاہ میں ہے بڑھائیں مکر سے…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ سرفرازی بھی دے خجالت بھی
سرفرازی بھی دے خجالت بھی دے شرف تخت، دے رزالت بھی منصف و مدّعی ہے زور آور آپ اپنی کرے وکالت بھی چھُوٹتے ہی جو وار کر ڈالے نام اُسی کے لگے بسالت بھی ہم نے دیکھے ہیں بر سرِ عالم قتل مِن جانبِ عدالت بھی وہ کہ جو بے خطا ہے، اندر سے خون کھولائے اُس کی حالت بھی ضد ہو میزانِ عدل جب ماجد! کیا کرے بحث کی طوالت بھی
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے
رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے جس سے ٹھہرا تھا میں بہشت بدر سخت مہنگی پڑی وہ بھُول مجھے بزم در بزم، کرب کا اظہار کر نہ دے اور بھی ملول مجھے بات کی میں نے جب مرّوت کی وہ سُجھانے لگے اصول مجھے دیکھ کر دشت میں بھی طالبِ گل گھُورتے رہ گئے ببول مجھے جس کا ابجد ہی اور سا کچھ تھا بھُولتا کب ہے وہ سکول مجھے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں
رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں میں وہ بد بخت فرزندِ اجداد ہُوں جس کو ورثے میں ہوں التجائیں ملیں دیر تھی گر تو اتنی کہ نکلے نہ تھے بال و پر اور جب یوں بھی ہونے لگا فصل کٹنے پہ کھیتوں سی اُجٹری ہوئی کیا سے کیا کچھ نہ رنجور مائیں ملیں بخت کسبِ سعادت میں بھی کیا کہوں صیدِ اضداد ٹھہرا ہے کچھ اِس طرح دیس ماتا کی خفگی سے رد ہو گئیں ماں کی جانب سے جتنی دعائیں ملیں…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا
عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا وُوں نہ کچھ ماجد ہُوا ہم سے…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے
سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے بحر میں حالات کے، بے رحم موجیں دیکھ کر اژدہے کچھ اور ہی آنکھوں میں لہرانے لگے مِہر کے ڈھلنے، نکلنے پر کڑکتی دھوپ سے گرد کے جھونکے ہمیں کیا کیا نہ سہلانے لگے تُند خوئی پر ہواؤں کی، بقا کی بھیک کو برگ ہیں پیڑوں کے کیا کیا، ہاتھ پھیلانے لگے وحشتِ انساں کبھی خبروں میں یوں غالب نہ تھی لفظ جو بھی کان تک پہنچے وہ دہلانے لگے چھُو…
Read More