سارا شگفتہ ۔۔۔ خالی آنکھوں کا مکان

خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو آگ کا ذائقہ چراغ ہے اور نیند کا ذائقہ انسان مجھے پتھروں جتنا کس دو کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو میں خدا کی زبان منہ میں رکھے کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا زنجیروں کی رہائی دو کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے مجھے تنہا مرنا ہے سو یہ آنکھیں یہ دل کسی خالی انسان کو دے…

Read More

سارا شگفتہ ۔۔۔ چاند کا قرض

چاند کا قرض ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی اور اپنا اپنا بین ہوئے ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے میں نے موت کے بال کھولے اور جھُوٹ پہ دراز ہوئی نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی شام دوغلے رنگ سہتی رہی آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں جنم کے پہیے پر موت کی رَتھ دیکھ رہی ہوں زمینوں میں میرا اِنسان دفن ہے سجدوں سے سر اُٹھا لو…

Read More