سلام بحضور سیّد الشہداء امام حسین لباس ہے پھٹا ہوا ،غبار میں اٹا ہوا تمام جسمِ نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوا یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے یہ جسکی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے کئی شقی گرے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر اٹھی صدائے الاماں زبانِ شرق وغرب سے یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ…
Read MoreTag: شاعری
افتخا عارف ۔۔۔ مظہرِ خوشنودئ داور علم عباس کا
مظہرِ خوشنودئ داور علم عباس کا ایک دن لہرائے گا گھر گھر علم عباس کا کیسا لگتا ہوں مین جب کرتا ہوں مدح اہل بیت کیسا لگتا ھے مرے سر پر علم عباس کا ہم غلامانِ در مشکل کشا، مشکل کے وقت چومتے ہیں یاعلیؑ کہہ کر علم عباس کا کون جانے روزِ عاشورہ فرازِ نور سے دیکھتے ہوں فاتحِ خیبر علم عباس کا اک پھریرا اک نشانِ خیر اک ننھی سی مشک ہر دلِ مومن کو ازبر ہے علم عباس کا کاش سن پاؤں کسی رہوار کے قدموں کی…
Read Moreافتخار حیدر ۔۔۔ گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت
گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت شبیر نے لکھ دی سرِ دیوار حقیقت اکبر کی اذاں ،اصغرِ بے شیر کی مسکان اور قاسمِ ذی جاہ کی للکار حقیقت گو شام کی آندھی نے اسے گھیرا ہے لیکن نیزے پہ نظر آتی ہے ضوبار حقیقت ہر دور میں فتووں کے غلاف اس پہ چڑھے ہیں تاریخ بتاتی رہی ہر بار حقیقت سجاد نے جھٹلایا سرِ تخت عدو کو زینب نے بتائی سرِ دربارِ حقیقت
Read Moreسلام بحضور امامِ عالی مقام ،حسین علیہ اسلام ۔۔۔ خالد معین
سلام بحضور امامِ عالی مقام ،حسین علیہ اسلام عالی نسب ہیں صاحب ِ کردار ہیں حسین تیرہ شبی میں صبح کے آثار ہیں حسین ہے کر بلا سبھی کے لیے درسِ آگہی ہر انقلابِ وقت کےسردار ہیں حسین حُر کے نصیب جاگے ،پلٹ آیا شاہ تک اب اُس کی رفعتوں کے نگہ دار ہیں حسین یہ راستہ فنا کا نہیں ہے ،بقا کا ہے ساری صعبتوں سے خبردار ہیں حسین خالد معین اپنا تو ایمان ہے یہی حق آشنا ہیں ،حق کے علم دار ہیں حسین
Read Moreقتیل شفائی
برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی مدینے کے سفر کا بس اتنا سا اثاثہ ہے قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے
Read Moreافتخار عارف ۔۔۔ شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے
شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہے فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے زمیں کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسینؑ کا ہے سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا ہے کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی ہے کہ اب تمام عالمِ خیر و خبر حسینؑ کا ہے محبتوں…
Read Moreسلام ۔۔۔ عرفان صدیقی
سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقشِ ظفر تھا لوحِ ازل پر لکھا ہوا تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا صحرا کو شادکام کیا اس کی موج نے تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا تابندہ ہے رگوں میں لہو روشنائی سے دنیا کے نام نامۂ سرورؑ لکھا ہوا مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمیں پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں کس نے بدل دیا ہے مقدر لکھا ہوا پانی پہ کس کے دستِ بریدہ کی مہر ہے کس کیلئے ہے چشمۂ کوثر…
Read Moreسلام بحضور شہدائے کربلا ۔۔۔ شین زاد
سلام بحضور شہدائے کربلا . میں یوں تو پڑھتا ہوں ہر روز بار بار سلام کرم حُسین کا ہو تو کہوں ہزار سلام . ہر ایک اشک میں آتا ہوا سلام اُن پر سلام اُن پہ سلام اور بے شمار سلام . برستی آنکھ پہ اصغر کے خشک ہونٹوں پر میں بھیجتا ہوں لب ِ خشک اشکبار سلام . ہزار کو تو جہنم رسید تو نے کیا سلام شاہ کی تلوار ذُولفقار سلام . سلام آپ کے جانے پہ یا حُسین مگر بہن کہے تو کہے کیسے دل فگار سلام…
Read Moreنذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام ! ۔۔۔ رحمان فارس
نذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام ! تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حُسین کا ہے ؟ فُرات چھیننے والو ! خُدا حُسَین کا ہے !!! کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو ثباتِ رسمِ عزا مُعجزہ حُسَین کا ہے ازل سے تا بہ ابد نُور کے نشاں دو ہیں اک آفتاب ہے، اک نقشِ پا حُسَین کا ہے جہاں بھی ذکر ھو، اشکوں کے گُل برستے ھیں یہ احترام نبی کا ہے یا حُسَین کا ہے ذراسا غور سے دیکھو اُفق کی سُرخی…
Read Moreسلام ۔۔۔ منیر سیفی
کتنی صدیاں بِیت گئی ہیں گِریہ بند نہیں ہوتا پانی بند تو ہو سکتا ہے، دریا بند نہیں ہوتا اندھے زعم میں آندھی شاید یہ سچائی بھُول گئی چند مسافر کم ہونے سے رستا بند نہیں ہوتا موت اور سائل دستک کی خفّت سے بچ بھی سکتے ہیں اِک گھر ایسا ہے جس کا دروازہ بند نہیں ہوتا جب تک پیروکار نبی کے آنا بند نہیں ہوتے حق کی خاطر جاں دینے کا رستا بند نہیں ہوتا کیا کیا ظُلم نہیں ہوتے اب، لیکن میں بھی دیکھوں گا ایک حسین…
Read More