خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا
Read MoreTag: شاعری
ابراہیم اشک
مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو
Read Moreصفی لکھنوی
وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوۓ عالم نکلتا ہے شبِ فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہے
Read Moreضیا شادانی مرادآبادی … میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا
میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا یہاں پر مصر کا بازار کب تھا ملاقاتیں بھی رسماً ہو رہی تھیں دلوں میں جذبۂ ایثار کب تھا میں اس کو موت سے بھی چھین لاتا وہ جینے کے لئے تیار کب تھا اگر کچھ حوصلہ ہوتا تو چلتے وفا کا راستہ دشوار کب تھا ضیا میں سارے بندھن توڑ دیتا تمہارے واسطے انکار کب تھا
Read Moreضیا شادانی مرادآبادی … گلوں کا رنگ کلی کا شباب مانگے ہے
گلوں کا رنگ کلی کا شباب مانگے ہے نگاہ شوق بھی کیا انتخاب مانگے ہے جو تجھ سے مجھ سے خفا ہو گئے ہیں صدیوں سے نگاہ پھر انہیں لمحوں کا خواب مانگے ہے کسی کو کچھ بھی نہیں مل سکا زمانے میں جسے ملا ہے وہ کیوں بے حساب مانگے ہے اب اس سے بڑھ کے ترقی کا دور کیا ہوگا حرم میں بیٹھ کے زاہد شراب مانگے ہے اب ایسی ضد کا بھلا کیا علاج ہوگا ضیا وہ ماہتاب ہے اور آفتاب مانگے ہے
Read Moreضیا شادانی مرادآبادی … غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے
غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے اور سمٹے تو میری ذات ہوئے ہم سے ہی عرض مدعا نہ ہوا جب وہ مائل بہ التفات ہوئے مدتوں سے دعا سلام نہیں مدتیں ہو گئی ہیں بات ہوئے جو بھی گزری گزر گئی ہم پر رونما پھر نہ حادثات ہوئے ہم نے پائی وفا کی داد ضیا جب بھی ماضی کے واقعات ہوئے
Read Moreحسن اکبر کمال … کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا
کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا دن ڈھلے سایہ مقابل ہوا بڑھ کر اپنا گھر سے نالاں تھے مگر دیکھی ہے دنیا ہم نے ہے اگر کوئی اماں گاہ تو بس گھر اپنا درد یہ کیسا شرر بن کے اٹھا پہلو میں ہم تو یوں خوش تھے کہ دل کر لیا پتھر اپنا رات بھر کوئی نہ سوئے تو سنے شور فغاں چاند کو درد سناتا ہے سمندر اپنا دکھ اٹھائے تو بہت رنگ خود اپنے دیکھے کم قیامت سے نہ تھا جو بھی تھا منظر اپنا…
Read Moreایوب رومانی … رہ گزاروں میں روشنی کے لیے
رہ گزاروں میں روشنی کے لیے لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دیے ذائقہ تلخ ہے محبت کا آدمی زہر غم پیے نہ پیے دل میں یادوں کے رت جگے جیسے ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دیے دل میں طوفان ہیں چھپائے ہوئے ہم تو بیٹھے ہیں اپنے ہونٹ سیے کوئی تجھ سا نظر نہیں آتا دل نے سو رنگ انتخاب کیے در بدر شہر میں پھرے یارو اپنے کاندھے پہ اپنی لاش لیے دل کی دل میں رہیں تمنائیں آنکھوں آنکھوں میں کتنے اشک پیے جان پیاری ہمیں بھی تھی…
Read Moreعنبرین صلاح الدین
تا کہ گزرے ہوئے خواب کی باس کمرے میں ٹھہری رہے میں نے سانسوں کو مدھم رکھا اور گھر کو قفس کر لیا
Read Moreسعود عثمانی۔۔۔ نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں
نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں اور اس کے بعد بچیں صرف خوبیاں مجھ میں میں ایک عمر یہاں جس مکاں میں رہتا رہا اب ایک عمر سے رہتاہے وہ مکاں مجھ میں سنا نہیں تھا کہ پت جھڑ بھی سبز ہوتی ہو مگر یہ پھول کھلا اور ناگہاں مجھ میں طلوع ہوتا ہے سورج غروب ہوتے ہوئے یہ رات جلنے لگی ہے یہاں وہاں مجھ میں سفر سے آتا ہوا ‘ بکریاں چراتا ہوا سعود کوئی گڈریا ہے نغمہ خواں مجھ میں
Read More