مرزا آصف رسول ۔۔۔ العروۃ الوثقی

العروۃ الوثقی ۔۔۔۔ کمالِ شعر و سخن ہے ثنا محمدؐ کی یہ ضو ہے صل وسلم علی محمدؐ کی رہا خلیل کے لب پر جو ربنا وابعث ہے وہ تتمۂ کعبہ دعا محمدؐ کی نزاعِ نور و بشر کا جہان کیا جانے؟ کہ شانیں اس سے بھی اونچی ہیں کیا محمدؐ کی؟ خدا کا فیصلہ لا ترفعوا ابد تک ہے کہ ہے ہر آیتِ قرآں صدا محمدؐ کی بچے گا گردشِ دوراں کی ظلمتوں سے وہی ہے جس کا عروۂ وثقیٰ ضیا محمدؐ کی وہ نعرہ ہے اسی جرأت کا…

Read More

ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ اب نہیں مجھ میں چاہتیں باقی

اب نہیں مجھ میں چاہتیں باقی رہ گئیں تیری عادتیں باقی بٹ گیا دل تو کرچیوں میں، پر ہیں سبھی میں شباہتیں باقی دیکھ بے نور ہو گئیں آنکھیں ہیں مگر اِن میں حسرتیں باقی پھول کلیوں میں اِس چمن کے اب رنگتیں ہیں نہ نکہتیں باقی میرے خوابوں میں اور کچھ بھی نہیں یار کی ہیں شباہتیں باقی کر چکا ہوں وضاحتیں ساری پھر بھی ہیں کچھ وضاحتیں باقی لذّتِ عشق کھو گئی لیکن رہ گئی ہیں اذیتیں باقی ایک مدّت سے چل رہا ہوں ندیمؔ ’’اور ہیں کتنی…

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں

خواہشِ انجمنِ جام و طرب ہے ہی نہیں سچ بتاؤں تو کوئی دل میں طلب ہے ہی نہیں لاکھ بتلاتا ہوں پھر بیچ میں لے آتے ہو مسلکِ عشق میں یہ نام و نسب ہے ہی نہیں حیف صد حیف یہاں کوئی گنہگار نہیں کیسی محفل ہے طلب گار و طلب ہے ہی نہیں نہیں معلوم کہ غمگین ہوں کس کی خاطر مسئلہ یہ ہے کوئی غم کا سبب ہے ہی نہیں عہد و پیمان ، شکایات ، جنوں ، میخانے عقل والوں کے نصیبوں میں یہ سب ہے ہی…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ موج دریا پہ چھا رہا ہے یہ کون

یہ غزل جوش ملیح آبادی کی تخیل انگیز، شہوانی و روحانی، وجدانی اور تمثیلی شاعری کا نادر و نایاب شاہکار ہے، جس میں حس، خواب، بدن، عشق، موسیقی، روشنی، ذہن، اور روح سب بیک وقت متحرک ہیں۔ پوری غزل ایک ہی سوال پر قائم ہے:

"یہ کون؟”

جیسے عشق، وجود، کائنات، فطرت، نسوانی حسن، اور الوہی اسرار — سب مل کر ایک منظرنامۂ تجلیات تشکیل دے رہے ہوں۔

Read More

نجیب احمد

خیمۂ جاں کی طنابوں کو اکھڑ جانا تھا ہم سے اک روز ترا غم بھی بچھڑ جانا تھا

Read More

محمد علی ایاز ۔۔۔ مسلسل نامکمل راستوں سے

مسلسل نامکمل راستوں سے کسی نے رب کو ڈھونڈا مشکلوں سے ابھی بھی دل مرا بنجر نہیں ہے ہرا رکھا ہوا ہے خواہشوں سے کسے معلوم کیوں کر دیکھتا ہوں میں ہاتھوں کی لکیریں کچھ دنوں سے بہت آسان ہوتی جارہی تھیں پھر اک الجھن نکالی الجھنوں سے ابھی منزل دکھائی کیسے دے گی ابھی پالا پڑا ہے رہزنوں سے یہ آگ اور خون کیسے گوندھتے ہیں کبھی پوچھے کوئی کوزہ گروں سے

Read More

رمزی آثم ۔۔۔ دو غزلیں

کوئی تمثیل نہیں ہے یہاں پیارے میری نقل کرتے ہیں فلک پر یہ ستارے میری میں نے اک پیڑ لگایا کہ یہاں چھاؤں رہے جان لینے پہ تلے ہیں یہاں سارے میری مچھلیاں دیکھ کے چپ چاپ پلٹ جاتی ہیں کوئی اوقات نہیں جھیل کنارے میری اس سے کہنا کہ جہاں کوئی نہ ہو میں بھی نہ ہوں اس سے کہنا وہاں تصویر اتارے میری دوستو تم ہی بتاؤ مجھے کیسا ہوں میں کوئی رائے نہیں بنتی مرے بارے میری ۔۔۔ کسی چراغ کسی روشنی کو مت دیکھو ہمارے ساتھ…

Read More

نائلہ راٹھور ۔۔۔ بار الفت دل مضطر سے اٹھایا نہ گیا

بار الفت دل مضطر سے اٹھایا نہ گیا "اک دیا تم سے محبت کا جلایا نہ گیا” دیکھتے دیکھتے ہوتے گئے یوں رستے جدا تم سے روکا نہ گیا مجھ سے بلایا نہ گیا ہم سے گر تم ہو گریزاں تو گریزاں ہی رہو فاصلہ ہم نے بڑھایا بھی، بڑھایا نہ گیا آج بھی رات میں سناٹے ڈراتے ہیں مجھے آج بھی دل سے اس آسیب کا سایا نہ گیا تم نے سوچا ہے کبھی کیسے گزرتی ہے مری تم نے پوچھا نہیں اور ہم سے بتایا نہ گیا

Read More