عمران اعوان … یہی تو سوچ کے ہلکان تھا میں سارا دن

یہی تو سوچ کے ہلکان تھا  میں سارا دن کہ میرے بعد بھی کٹتا رہا تمہارا دن مجھے پتہ ہے ترا فلسفہ  ضرورت ہے اسی لیے تو مرے بعد بھی گزارا دن ہم آج شام سے پہلے نہ لوٹ پائیں گے کہاں یہ لمبا سفر اور  کہاں ہمارا دن ہم اہل ہجر ہیں راتوں کو جاگنے والے ہمارے واسطے تو نے نہیں اتارا دن ہمیں بھی وصل کے لمحے عزیز ہیں جاناں! ہمیں بھی زندگی سے دے کوئی ادھارا دن حسین لگنے لگی ہے تمام دنیا مجھے تمہاری آنکھ نے…

Read More

عمران اعوان… یہ جو آنکھوں پہ بند تالے ہیں

یہ جو آنکھوں پہ بند تالے ہیں میں نے کچھ خواب بیچ ڈالے ہیں میں تجھے یاد بھی نہیں کرتا نہ ہی میسج ترے سنبھالے ہیں آج کچھ بے قرار لگتے ہیں سانپ جو آستیں میں پالے ہیں باغِ دل اس طرح سے اجڑا ہے نہ ہی بلبل ہے نہ ہی نالے ہیں کتنی زرخیز ہو گئی مٹی جب سے کچھ درد اس میں ڈالے ہیں اس نے پھولوں سے چن لئے کانٹے زندگی سے نہیں نکالے ہیں جو بتائے تھے بانٹنے کے لئے اس نے وہ دکھ مرے اچھالے…

Read More