جواں ہو کر زباں تیری بتِ بے پیر بگڑی ہے دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے وہ میرا نام لکھتے وقت روئے ہوں گے اے قاصد یہاں آنسو گرے ہوں گے جہاں تحریر بگڑی ہے مصور اپنی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی میں ایسا ہو گیا ہوں یا مری تصویر بگڑی ہے لٹا ہے کارواں جب آ چکی ہے سامنے منزل کہاں ٹوٹی امیدیں اور کہاں تقدیر بگڑی ہے کیا ہے ہر کڑی کو میں نے ٹیڑھا جوشِ وحشت میں مرے ہاتھوں ہی میرے پاؤں…
Read MoreTag: قمر جلالوی
قمر جلالوی ۔۔۔ ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا
ارماں ہو مجھے نزع میں کیا چارہ گری کا گل کون تراشے ہے چراغِ سحری کا اِک وہ بھی ہے بیمار تری کم نظری کا مر جائے مگر نام نہ لے چارہ گری کا برہم ہوئے کیوں سن کے مرا حالِ محبت شِکوہ نہ تھا آپ کی بیداد گری کا بیگانۂ احساس یہاں تک ہوں جنوں میں اب گھر کی خبر ہے نہ پتہ دربدری کا اور اس کے سوا پھول کی تعریف ہی کیا ہے احسان فراموش نسیمِ سحری کا دنیا پہ قمر داغِ جگر ہے مرا روشن لیکن…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے
خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے مٹا کر رکھ دیے ہیں یوں ہزاروں بے زباں تو نے نہ رکھا اپنے عہدِ ظلم کا کوئی نشاں تو نے ہرے پھر کر دیے زخمِ جگر صیاد بلبل کے قفس کے سامنے کہہ کر گلوں کی داستاں تو نے اسی وعدے پہ کھائی تھی قسم روئے کتابی کی اسی صورت میں قرآں کو رکھا تھا درمیاں تو نے عدو کہتے ہیں اب سہرا فصاحت کا ترے سر…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری
نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری بڑی رنگینیاں تھیں اولِ شب ان کی محفل میں بتاؤ بزم والو رات ڈھل جانے پر کیا گزری چھپائیں گے کہاں تک رازِ محفل شمع کے آنسو کہے گی خاکِ پروانہ کہ پروانے پہ کیا گزری مرا دل جانتا ہے دونوں منظر میں نے دیکھے ہیں ترے آنے پہ کیا گزری ترے جانے پہ کیا گزر ی بگولے مجھ سے کوسوں دور بھاگے دشتِ وحشت میں بس اتنا میں…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیے ہوئے دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیے ہوئے دیکھو ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے تم رات دن ستاؤ مگر دل لیے ہوئے وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں ! اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیے ہوئے بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر ! وہ سامنے چراغ ہے منزل لیے ہوئے
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ گو دورِ جام بزم میں تا ختمِ شب رہا
گو دورِ جام بزم میں تا ختمِ شب رہا لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا پروانہ میری طرح مصیبت میں کب رہا بس رات بھر جلا تری محفل میں جب رہا ساقی کی بزم میں یہ نظامِ ادب رہا جس نے اٹھائی آنکھ وہی تشنہ لب رہا سرکار پوچھتے ہیں خفا ہو کے حالِ دل بندہ نواز میں تو بتانے سے اب رہا بحر جہاں میں ساحل خاموش بن کے دیکھ موجیں پڑیں گی پاؤں جو تو تشنہ لب رہا وہ چودھویں کا چاند نہ آیا نظر…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ غزلیں
گر پڑی ہے جب سے بجلی دشتِ ایمن کے قریب مدتیں گزریں نہیں آتے وہ چلمن کے قریب میرا گھر جلنا لکھا تھا ورنہ تھی پھولوں پہ اوس ہر طرف پانی ہی پانی تھا نشیمن کے قریب اب ذرا سے فاصلے پر ہے حدِ دستِ جنوں آ گیا چاکِ گریباں بڑھ کے دامن کے قریب وہ تو یوں کہیے سرِ محشر خیال آ ہی گیا ہاتھ جا پہنچا تھا ورنہ ان کے دامن کے قریب میں قفس سے چھٹ کے جب آیا تو اتنا فرق تھا برق تھی گلشن کے…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو
آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو میں نے منزل کے لیے راہ بدل دی ورنہ روک لے دیر جو کعبہ خلل انداز نہ ہو مرتے مرتے بھی کہا کچھ نہ مریضِ غم نے پاس یہ تھا کہ مسیحا کا عیاں راز نہ ہو ساقیا، جام ہے ٹوٹے گا صدا آئے گی یہ مرا دل تو نہیں ہے کہ جو آواز نہ ہو اے دعائے دلِ مجبور! وہاں جا تو سہی لوٹ آنا درِ مقبول اگر باز…
Read More