نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے مجھ پہ احساں نہ رکھو جان بچا لینے کا مرنے دیتے مجھے کاہے کو دعا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منثا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں…
Read MoreTag: قمر جلالوی
استاد قمر جلالوی
موسیٰ سے ضرور آج کوئی بات ہوئ ہے جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور
Read More