کنور امتیاز احمد ۔۔۔ اشک کا جیسے ستارہ ہونا

اشک کا جیسے ستارہ ہونا میرا ، رونے سے ، تمھارا ہونا اُس کی آنکھوں سے سمجھ آتا ہے کسی دریا کا کنارہ ہونا اب تو لگتا ہے کہ ممکن ہی نہیں شہر میں دل کا گزارا ہونا یعنی مٹنا ہی نہیں ہے ہم کو طے ہے گر اپنا دوبارہ ہونا اور انسان سمجھتا ہی نہیں ! فائدے میں بھی خسارہ ہونا

Read More

غزل ۔۔۔۔ میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں

میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جگ میں کس کا کون ہوا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں من مورکھ ہے‘ مت سمجھائو‘ کرنی کا پھل پائے گا چڑھتا دریا کب ٹھہرا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں تم تو اب بھی مجھ سے پہروں دھیان میں باتیں کرتے ہو ترکِ تعلق کیا ہوتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جانے والے‘ حد یقیں تک ہم نے جاتے دیکھے ہیں واپس لوٹ کے کون آتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں میں سوچوں کی…

Read More

کنور امتیاز احمد

غزلوں کو دُعا بنا رہا ہوں اک رستہ نیا بنا رہا ہوں

Read More