اشک کا جیسے ستارہ ہونا میرا ، رونے سے ، تمھارا ہونا اُس کی آنکھوں سے سمجھ آتا ہے کسی دریا کا کنارہ ہونا اب تو لگتا ہے کہ ممکن ہی نہیں شہر میں دل کا گزارا ہونا یعنی مٹنا ہی نہیں ہے ہم کو طے ہے گر اپنا دوبارہ ہونا اور انسان سمجھتا ہی نہیں ! فائدے میں بھی خسارہ ہونا
Read MoreTag: Kanwar
اعجاز کنور راجہ … چھپا کے شب سے جو شمس و قمر بناتے ہیں
چھپا کے شب سے جو شمس و قمر بناتے ہیں دکھائی دیتے نہیں ہیں مگر بناتے ہیں حروفِ سبز میں ڈوبے ہوئے قلم لے کر ہم اپنے دستِ ہنر سے شجر بناتے ہیں ستارا وار چنی ہے کرن کرن ہم نے اور اپنے حسنِ نظر سے سحر بناتے ہی ترا وجود غنیمت ہے اے سیاہئ شب ہم اپنی اپنی ضرورت کے ڈر بناتے ہیں کنارا ہاتھ سے چھوڑا نہیں ابھی ہم نے خیال و خواب میں ہر سو بھنور بناتے ہیں رواج ہے کہ جو خود با خبر نہیں ہوتے…
Read Moreکنور امتیاز احمد
غزلوں کو دُعا بنا رہا ہوں اک رستہ نیا بنا رہا ہوں
Read More