گھونگرو دیکھتا ہے، رقص کا ڈھب دیکھتا ہے دیکھنے والا کہاں اس کا سبب دیکھتا ہے خواب میں جشنِ طرب دیکھنے والا انساں حرفِ ماتم نہ کوئی نالۂِ شب دیکھتا ہے جس طرف اہلِ بصیرت کی نظر اْٹھتی ہے جس کو آنکھیں بھی میسّر ہیں وہ کب دیکھتا ہے تیسری آنکھ سلامت ہو تو سونے والا جو بھی اطراف میں موجود ہو سب دیکھتا ہے نیند میں خواب کا منظر تو سبھی دیکھتے ہیں جاگنے والا مگر خواب عجب دیکھتا ہے وقت بازار میں لے آتا ہے چپ چاپ مجھے…
Read MoreTag: اعجاز کنور راجہ
اعجاز کنور راجہ … چھپا کے شب سے جو شمس و قمر بناتے ہیں
چھپا کے شب سے جو شمس و قمر بناتے ہیں دکھائی دیتے نہیں ہیں مگر بناتے ہیں حروفِ سبز میں ڈوبے ہوئے قلم لے کر ہم اپنے دستِ ہنر سے شجر بناتے ہیں ستارا وار چنی ہے کرن کرن ہم نے اور اپنے حسنِ نظر سے سحر بناتے ہی ترا وجود غنیمت ہے اے سیاہئ شب ہم اپنی اپنی ضرورت کے ڈر بناتے ہیں کنارا ہاتھ سے چھوڑا نہیں ابھی ہم نے خیال و خواب میں ہر سو بھنور بناتے ہیں رواج ہے کہ جو خود با خبر نہیں ہوتے…
Read More