خرم آفاق ۔۔۔۔۔۔ ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اُس کے

ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اُس کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے اُس کے یہی نہ ہو کہ توجہ ہٹا لے وہ اپنی زیادہ دیر نہ بچنا نشانے سے اُس کے وہ مجھ سے تازہ محبت پہ راضی ہے، لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانے سے اُس کے وہ تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے اُس کے وہ چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں آفاق سرک رہا تھا مرا ہاتھ شانے سے اُس کے

Read More

خرم آفاق ۔۔۔۔۔ کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا

کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا کچھ دن میں سامنے رہا، کچھ دن نہیں رہا پہلے یہ ربط میری ضرورت بناؤ گے اور پھر کہو گے رابطہ ممکن نہیں رہا ہم ایک واردات سے تھوڑے ہی دور ہیں وہ ہاتھ لگ گیا ہے مگر چھن نہیں رہا اسکول کے دنوں سے مجھے جانتے ہو تم میں آج تک سوال کیے بن نہیں رہا اک رات اس نے چند ستارے بجھا دیے اُس کو لگا تھا کوئی انھیں گن نہیں رہا

Read More