آباد تنہائی ہمارے گھر کے پودوں کی گداز و نرم شاخوں پر پرندے گھر بناتے ہیں یہاں ان کو ہمارے درمیاں رہ کر بھی اک تنہائی ملتی ہے ہمیں اک دوسروں کے گھونسلوں میں جھانکنے کی کیا ضرورت ہے در و بستِ گل و لالہ میں سب مصروف رہتے ہیں یہاں تنہائی بھی ہر شخص کو ہر چیز کو آرام دیتی ہے یہاں جب تک کوئی واپس نہیں آتا ہمارے سب کی تنہائی مکمل ہی نہیں ہوتی
Read MoreTag: nazm
سعید راجہ
وہ کیا پُر نور آنکھیں تھیں وہ کیا پُر نور آنکھیں تھیں جنہیں میں خواب میں دیکھا دمک جتنی قمر میں ہے ستاروں کی چمک ساری نشہ جو مے میں ہوتا ہے جو وسعت ہے سمندر میں بہاروں کی دلآویزی یہ زرخیزی بھی موسم کی تصور کا مکمل پن لکھی جاتی ہیں جو نظمیں غزل کہتے ہیں شاعر جو مسیحا کی مسیحائی حقیقت میں فسانہ اور فسانوں میں حقیقت بھی اُنھی آنکھوں کا صدقہ ہے جنہیں میں خواب میں دیکھا
Read Moreعقیل اختر … امتحان
امتحان مجھے اک امتحاں درپیش ہے اور میں پریشاں ہوں نہیں ایسا نہیں کہ میں نے سورج کو جھکا کر روشنی کے زاویے پابند کرنے ہیں نہیں ایسا نہیں کہ چاند تارے توڑنے کو اس فلک کے پار جاکر کہکشاں کو چھو کے آنا ہے نہیں ایسا نہیں کہ رستے دریا کے بدل کر اس زمیں کو اک سمندر اور دینا ہے نہ ہی ہستی کے مجھ کو پار جا کر معرفت کے راز پانے ہیں نہ مجھ کو اُس کے جلووں سے سیہ شب جگمگانی ہے نہ میں نے…
Read Moreمحمد افتخار شفیع ۔۔۔ کہی اور ان کہی کے درمیان بے سدھ پڑی ایک نظم
کہی اور ان کہی کے درمیان بے سدھ پڑی ایک نظم _____________________________ روپہلے بدن کی سیہ پوش لڑکی یہ کیا کہہ دیا تم نے خاموش لڑکی یہ کیاکہہ دیا تم نے شفاف لہروں میں پڑتے ہوئے نیلگوں عکس کو ایک موجِ قدآور کےہوتے ہوئے رقص کو یہ کیاکہہ دیا تم نے جنگل کی بارش میں سہمی ہوئی بھیگتی مورنی سے مرے سازِ خاموش کی ان کہی راگنی سے یہ کیا کہہ دیا تم نے وشنو کی رنگت کواوڑھے ہوئے نیلے موسم کے دلدادہ اک اجنبی شخص کو رفاقت کےلمحات میں…
Read Moreسعید سادھو … میں کیونکر نظم کہتا ہوں
"میں کیونکر نظم کہتا ہوں” غزل پابند کرتی ہے مجھے بس نظم ہی آزاد رکھتی ہے کسی پیچیدہ جُوڑے میں اُڑس لینا گُلابوں کا مجھے اچھا تو لگتا ہے کھُلے بالوں کا لہرانا مکمل نظم جیسا ہے ۔۔۔ میں چڑیا گھر میں سارے جانور تو دیکھ لیتا ہوں مگر جنگل کی ۔۔۔۔ سائَیں سائَیں ۔۔۔۔۔ سائِیں اور ہوتی ہے ۔۔۔ اے شالا مار کی ترتیب۔۔۔!!!!! تجھ میں بیٹھتا ہوں تو مجھے ناران بے ترتیب کیونکر ہانٹ کرتا ہے کہ بے ترتیب چیزوں میں بھی آخر کوئی تو ترتیب ہوتی ہے…
Read Moreعلی اصغر عباس … عدم آباد!
عدم آباد! میں نے زندگی کے جھروکے سے جھانک کر دیکھا تو حیات ہمیشگی کا لباس پہنے عدم آباد کے صحن میں ابد کے بے پایاں پیڑ کی شاخ پہ دوام کی پینگھ جھول رہی تھی دور لاکھوں کروڑوں میل کے فاصلے پر خاک کے قضا رسیدہ وجود غرور میں تنی گردنوں کے بوجھ سے آزاد مٹی کا غبار ہو چکے تھے جاودانی کا زعم اجل کے کیڑے نے کھا لیا تھا نوشتہ تقدیر کے حروف اُڑچکے تھے ثبات کا نیا شمارہ انسانیت کے گلیز پیپر پہ پوری آب و…
Read Moreصہیب اکرام ۔۔۔ ادراک
ادراک عمر بھی کی کاہشِ بےغم کے خوگر اس جہانِ بےبصر میں ہم کہاں تک اپنے دل میں خاک ہوتی بستیوں کے دکھ سمیٹیں بین کرتی خواہشوں کی بھیڑ میں روز اک تازہ لحد کی باس لے کر کب تلک پھرتے رہیں گے دربدر پیشتر اس سے کہ یہ ساری متاعِ بے ہنر خاک میں مل جائے ہم فرض کر لیں یہ جہانِ بےبصر اک گلشنِ نوخیز ہے اور اس کے سب طیورِ خوشنوا کی رنگ برنگی بولیوں سے لفظ کچھ دامن میں چن کر صفحۂ خوابِ بشارت پر الٹ…
Read Moreحمایت علی شاعر ۔۔۔ کرسی
کرسی ۔۔۔۔۔۔ جنگل کا خونخوار درندہ، کل تھا مرا ہمسایہ اپنی جان بچانے، میں جنگل سے شہر میں آیا شہر میں بھی ہے میرے خون کا پیاسا اِک ’چوپایہ‘
Read Moreحمایت علی شاعر ۔۔۔ رویتِ ہلال
رویتِ ہلال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود آگہی نہ جدتِ فکر و نظر ملی وہ قوم آج بھی ہے پرستار چاند کی جس قوم کو روایتِ ’شق القمر‘ ملی
Read Moreرخشندہ نوید ۔۔۔ رات کی رات
رات کی رات ۔۔۔۔۔۔۔ شام اُتری بدن پر حسیں لمس کے پھول کِھلنے لگے قرب کی لو سرہانے سرہانے جلی خواب گاہوں کے پیچھے ہواؤں کے پرنرم خوابوں کی آہٹ سے ملنے لگے شام اُتری بدن پر حسیں لمس کے پھول کھلنے لگے دھیرے دھیرے رواں کاروانِ فلک پر ستاروں کے جھرمٹ میں ڈوبی ہوئی رات جانے لگی چاہتوں کی ہوا سرسرانے لگی بند کمروں میں کھڑکی کے پردے اُٹھے ساعتِ سحر نے ادھ کھلی چشم کو خواب سے جاگنے کا اشارہ دیا صبح کی بارگاہوں میں ننھی کرن روشنی…
Read More