مت فکرِ مداوا کر اے دستِ مسیحائی دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی اک منزلِ ہجرت میں جب یاد تری آئی رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے جائے گی کہاں لے کر اے شرمِ شناسائی یہ کیسا سویرا تھا کس درد کا سورج تھا ہر روشنی ظلمت کی دہلیز پہ لے آئی جب ہجر مقدر ہے ملنے ہی نہیں دے گا سورج کی تو یکتائی میں چاند کی تنہائی اب تم کو بھی ہونا ہے اوجھل مری…
Read MoreTag: Pakistani Poets
طارق متین … چرچا ہے بہت جس کا یہاں نام بہت ہے
چرچا ہے بہت جس کا یہاں نام بہت ہے در پردہ وہی شخص خون آشام بہت ہے اتنا ہی ترے قرب کا ہنگام بہت ہے اک شام جو مل جائے وہی شام بہت ہے کافی ہے بہلنے کو تری یاد کی دولت اے راحتِ دل تیرا یہ انعام بہت ہے ہر موڑ پہ دھوکا ہے یہاں کیسے بسر ہو یہ دہر پر از کلفت و آلام بہت ہے دو گھونٹ سے کیا ہوگا ابھی اور پلا تو اے پیرِ مغاں تلخیٔ ایام بہت ہے بس تھوڑی سی مہلت تو مجھے…
Read Moreاسحاق وردگ
دکھائی دینے کے معنی نظر نہیں آتے سرابِ وقت کا آئینہ خانہ سامنے ہے
Read Moreشہناز مزمل
حرص و ہوس کے آگے نہ کچھ بھی دکھائی دے انسان اپنے قد سے بھی چھوٹا دکھائی دے
Read Moreثروت حسین ۔۔۔ نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے
نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے نہر اک نکالی ہے وقت کاٹ کر میں نے اُس درخت کے بازو دیر سے کشادہ تھے توڑ ہی لیا آخر ایک برگِ تر میں نے چیخ اک مسرّت کی خون میں سُنائی دی جب شکار کو دیکھا تیر کھینچ کر میں نے میری دسترس میں ہے آسمان مٹی کا اِک لکیر کھینچی ہے دیکھ ہم شجر میں نے جل اُٹھا اندھیرے میں انبساط کا پتھر جب زمین کو دیکھا اُس کو دیکھ کر میں نے میری گفتگو ثروت خواب گاہِ…
Read Moreعزیز قیسی
نہ ہم سیاہی نہ ہم اجالا چراغ ہیں اشکِ آرزو کے کہ ہم سرِ دشت بے کراں ہیں سلگتے رہتے ہیں شام سے ہم
Read Moreایوب رومانی ۔۔۔ جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا صحنِ گُل چھوڑ گیا، دل میرا پاگل نکلا جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا دل میں موجود رہا، آنکھ سے اوجھل نکلا اک ملاقات تھی جو دل کوسدا یاد رہی ہم جسے عمر سمجھتے تھے وہ اک پل نکلا وہ جو افسانۂ غم سن کے ہنسا کرتے تھے اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا ہم سکوں ڈھونڈنے نکلے تھے، پریشان رہے شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا کون ایوب پریشاں نہیں تاریکی…
Read Moreادا جعفری
صدیوں سے مرے پاؤں تلے جنتِ انساں میں جنت انساں کا پتا ڈھونڈھ رہی ہوں
Read Moreسیف الدین سیف ۔۔۔ مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں
مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں سمجھانے کہاں یہ کہاں تک پھیلتی جاتی ہیں دل کی وسعتیں حسرتو! دیکھو سمٹ آئے ہیں ویرانے کہاں میں بہت بچ بچ کے گزرا ہوں غمِ ایام سے لُٹ گئے تیرے تصور سے پری خانے کہاں یہ بھی تیرے غم کا اِک بدلا ہوا انداز ہے میں کہاں ورنہ غمِ دوراں کہاں بزم سے وحشت ہے، تنہائی میں جی لگتا نہیں اب کِسی کی یاد لے جائے خدا جانے کہاں سیف ہنگامِ وصال آنکھوں میں…
Read Moreحامد یزدانی
الاپ آتا ہے جیسے گیت میں دُھن سے ذرا پہلے سنی تھی تم نے بھی کیا وہ صدا کُن سے ذرا پہلے
Read More