الاپ آتا ہے جیسے گیت میں دُھن سے ذرا پہلے سنی تھی تم نے بھی کیا وہ صدا کُن سے ذرا پہلے
Read MoreTag: Pakistani Poets
طارق متین ۔۔۔ یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم
یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم کوئی عروج میں گم ہے کوئی زوال میں گم نصابِ عشق میں ہجر و وصال ایک سے ہیں ہے میرے ہجر کا رشتہ ترے وصال میں گم یہ اک نظارہ الگ ہے سبھی نظاروں سے مری نظر کا تسلسل ترے جمال میں گم یہ نازکی مرے شعروں کی بے سبب تو نہیں کہ میری فکرِ سخن ہے اسی غزال میں گم تمھیں ہو کیسے خبر خود مجھے نہیں معلوم میں کس جواب میں گم ہوں میں کس سوال میں گم…
Read Moreباقی احمد پوری
یزیدِ وقت کی بیعت سے انحراف کیا فصیلِ کفر میں انکار سے شگاف کیا
Read Moreسیف الدین سیف ۔۔۔ جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں
جب تصور میں نہ پائیں گے تمھیں پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمھیں تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو لوگ افسانہ بنائیں گے تمھیں حسرتو ! دیکھو یہ ویرانۂ دل اِس نئے گھر میں بسائیں گے تمھیں میری وحشت، مرے غم کے قصے لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمھیں آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے یہ تماشا بھی دکھائیں گے تمھیں آج کیا بات کہی ہے تم نے پھر کبھی یاد دلائیں گے تمھیں سیف یوں چھوڑ چلے ہو محفل جیسے وہ یاد نہ آئیں گے تمھیں
Read Moreافق لکھنوی ۔۔۔ برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں
برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں رہو تم شاد اے اہلِ وطن ہم گھر سے جاتے ہیں نوید اے خارِ صحرا مژدہ اے دشواریٔ منزل کہ ہم راہِ وفاداری میں چشم و سر سے جاتے ہیں کہاں گم گشتۂ راہِ سعادت ہیں انھیں دیکھیں جو چلتے ہیں نگاہوں میں وہ اس تیور سے جاتے ہیں جلو میں فوجِ غم ہے اردلی میں لشکرِ عسرت بیاباں میں افق ہم ایسے کر و فر سے جاتے ہیں
Read Moreافق لکھنوی ۔۔۔ ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے
ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے تسلی دل کی تکلیفِ رفو سے ہوتی رہتی ہے زمانہ قدرداں ہوتا ہے صورت اور سیرت کا گلوں کی قدر جیسے رنگ و بو سے ہوتی رہتی ہے نہیں تکلیف سے خالی کسی کا پھولنا پھلنا شجر پر سنگ باری چار سو سے ہوتی رہتی ہے قناعت کرتی رہتی ہے جو سیپی ابرِ نیساں پر بسر درِ عدن کی آبرو سے ہوتی رہتی ہے ہے مجھ پر مہربانی اس قدر تکلیفِ زنداں کی کہ خم گردن مری طوقِ گلو سے ہوتی…
Read Moreبشیر بدر
اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے بکھر جاؤں گا اب اگر اور دعا دوگے تو مر جاؤں گا!
Read Moreپروین شاکر
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
Read Moreاحمد فراز
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم
Read Moreبشیر بدر
زندگی! میں بھی مسافر ہوں تری کشتی کا تو جہاں مجھ سے کہے گی میں اُتر جاؤں گا
Read More