غمِ جاں گم غمِ دنیا میں تو ہونا مشکل ہے سمندر کو سمندر میں سمونا مشکل نیند جس نے بہت آنکھوں سے اڑا رکھی تھی یہ ہوا کیا کہ ہوا اس کو بھی سونا مشکل ہر صفت اپنی کہاں دیتا ہے گل خوشبو کو خواب دل کے مری آواز میں ہونا مشکل یوں زمیں ذائقۂ خوں سے ہوئی ہے مانوس اس میں اب فصل محبت کی ہے بونا مشکل کل ہمیں ملنے ہیں جو غم وہ ابھی مل جائیں آنکھ پتھرائی تو ہو جائے گا رونا مشکل وقت کو کھیلنے…
Read MoreTag: Pakistani Poets
ایوب رومانی … دل میں کچھ درد سوا ہے یارو
دل میں کچھ درد سوا ہے یارو آج رونا بھی روا ہے یارو سانس لیتا ہوں تو دم گھٹتا ہے کیسی بے درد ہوا ہے یارو میں جو ہنستا ہوں تو رو دیتے ہیں تم کو کیا آج ہوا ہے یارو کس نے احساس کی دولت پائی کون دیوانہ ہوا ہے یارو اتنی ویران نہ تھیں یہ آنکھیں ضبط کرنے کا صلہ ہے یارو اپنے دامن میں کوئی پھول نہیں دل میں کانٹا سا چبھا ہے یارو خود پکارا اسے خود دوڑ پڑے خوب گنبد کی صدا ہے یارو
Read Moreمنظور حسین شور … مجھے اے ہم نفس اندیشۂ برق و خزاں کیوں ہو
مجھے اے ہم نفس اندیشۂ برق و خزاں کیوں ہو مری پرواز محدودِ فضائے گلستاں کیوں ہو جنوں کی وسعتوں پر تنگ ہے عرصہ دو عالم کا جو سجدہ ہو تو پھر سجدہ بقیدِ آستاں کیوں ہو مرے کام آ گئی آخر مری کاشانہ بر دوشی شرار و برق کی زد پر بھی میرا آشیاں کیوں ہو غمِ دل بھی جو رسوائے مذاقِ عام ہو جائے تو پھر ان داستانوں میں ہماری داستاں کیوں ہو پیالوں کی کھنک سے بھی جہاں دل ٹوٹ جاتے ہیں وہاں چھایا ہوا ہر بزم…
Read Moreبسمل صابری
جب آیا عید کا دن، گھر میں بے بسی کی طرح تو میرے پھول سے بچوں نے مجھ کو گھیر لیا
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ تیری صورت نہ جب دکھائی دے
تیری صورت نہ جب دکھائی دے کوئی رستہ نہیں سجھائی دے آپ ترکِ تعلقات کرے آپ الزامِ بے وفائی دے قرب جس کا ہے زندگی میری وہ مجھے رنجِ نارسائی دے میں سماعت پہ بھی یقیں کر لوں تیری آواز تو سنائی دے ہجر سی لگ رہی ہے قربت بھی کون غم سے مجھے رہائی دے جانتا ہی نہیں جو نامِ وفا مجھ کو الزامِ بے وفائی دے کہاں خود کو چھپائیں اے بسمل وہ جو امیدِ رو نمائی دے
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ اپنے غموں کی بات نہیں ہے ہنسی کی بات
اپنے غموں کی بات نہیں ہے ہنسی کی بات اس رنگ میں بھی کرتے ہیں ہم زندگی کی بات دانش وروں کی بزم میں، لوگو! کہاں چلے لو میری وحشتوں سے سنو آگہی کی بات اہلِ خرد پہ فرض ہوا سجدۂ جنوں محفل میں جب چھڑی مری دیوانگی کی بات برباد ہیں بگولے، پریشاں شمیمِ گل پہنچی کہاں کہاں تری آوارگی کی بات کیا کیا زمانہ مجھ پہ لگائے نہ تہمتیں لہجہ بدل کے کہہ دوں اگر آپ ہی کی بات ہے اپنی اپنی سب کو ہی بسمل پڑی ہوئی…
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ وہ عکس بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے
وہ عکس بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے عجیب شخص ہے، پانی کے گھر میں رہتا ہے وہی ستارہ شبِ غم کا اک ستارہ ہے وہ اک ستارہ جو چشمِ سحر میں رہتا ہے کھلی فضا کا پیامی، ہوا کا باسی ہے کہاں وہ حلقۂ دیوار و در میں رہتا ہے جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اُسے وہ شعر بن کے بیاضِ نظر میں رہتا ہے گزرتا وقت مرا غم گسار کیا ہوگا یہ خود تعاقبِ شام و سحر میں رہتا ہے مرا ہی روپ ہے…
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ وفا کو جگمگانا چاہتے ہیں
وفا کو جگمگانا چاہتے ہیں ہم اپنا دِل جلانا چاہتے ہیں ہمیں تم اپنے دامن میں چھپا لو مسافر ہیں، ٹھکانہ چاہتے ہیں پرانے زخم بھر جانے سے پہلے نئی اک چوٹ کھانا چاہتے ہیں تمہاری یاد کے سیال موتی مری پلکوں تک آنا چاہتے ہیں درِ دل پر کھڑے ہیں غم ہزاروں یہ پنچھی آشیانہ چاہتے ہیں یہ آنکھیں اور بھر آتی ہیں بسمل اگر ہم مسکرانا چاہتے ہیں
Read Moreبشر نواز
جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز اُدھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہرِ محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں حدِ سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے اپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں انگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئے اب…
Read More