عنبر بہرائچی

جانے کیا برسا تھا رات چراغوں سے بھور سمے سورج بھی پانی پانی ہے

Read More

خاطر غزنوی

اُن آنکھوں نے لوٹ کے بھی اپنے اوپر بات نہ لی

Read More

محسن اسرار

اکیلے پن کو مرے سلطنت کا درجہ دے پھر اس کے بعد مجھے اُس کا بادشاہ بنا

Read More

احمد ندیم قاسمی

تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی

Read More

آہ سنبھلی

چراغِ طاق نسیاں سے نہ جلتے ہو نہ بجھتے ہو تمھیں اک دن ہَوا سے بھی لپٹ کر دیکھ لینا تھا

Read More

نوشی گیلانی

اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھی ذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

Read More

ڈاکٹر محمود ناصر ملک

یہ شہر جل چکا ہے بچانے کو کچھ نہیں اس راکھ سے بھی اب تو اٹھانے کو کچھ نہیں

Read More

سجاد بلوچ

ذرا سے پھل کے لیے شاخ توڑ لی تم نے یہ بھوک کی تو علامت نہیں، ہوس کی ہے

Read More

انصر منیر ۔۔۔ جیسے ساری خدائی حاصل ہے

جیسے ساری خدائی حاصل ہے مجھ کو تم تک رسائی حاصل ہے اب میں نبضِ جہاں چلاتا ہوں مجھ کو تیری کلائی حاصل ہے یوں تو نفرت ہے چار سو میرے بس محبت کی پائی حاصل ہے مجھ کو درکار تھی محبت جو سن لو مجھ کو وہ بھائی حاصل ہے خرچ کرتا ہوں میں کھلے دل سے جو ذرا سی کمائی حاصل ہے

Read More

قمر رضا شہزاد ۔۔۔ اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے

اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے خیال پھر یہی آتا ہے کم کیا میں نے فراتِ عصر پہ ظالم سے جنگ کرتے ہوئے جو کٹ گیا وہی بازو علم کیا میں نے مہکتے کیوں نہ گلِ سرخ میرے سینے میں لہو کے سیل سے یہ دشت نم کیا میں نے کمال یہ ہے کہ پھر بھیگتا گیا کاغذ کبھی جو پیاس کا قصہ رقم کیا میں نے مجھے نہیں ہے کوئی اور غم خدا کا شکر ہر ایک غم کو ترے غم میں ضم کیا میں نے

Read More