اصغر سپاہِ شام میں کہرام ہے بپا تم تیر کھا کے أئے ہو یا تیر مار کے
Read MoreTag: Poetry
انور مسعود
شعر میں کیسے بیاں ہو داستانِ کربلا لاکھ مضموں باندھ لیجے تشنگی رہ جائے گی
Read Moreارشد حسین ۔۔۔ سینے میں موجزن ہے الم اہلِ بیت کا
سینے میں موجزن ہے الم اہلِ بیت کا ٹھہرا ہوا ہے آنکھ میں نم اہلِ بیت کا پاکی پہ ان کی آیۂ تطہیر ہے گواہ کرب و بلا سے لے کے حرم اہلِ بیت کا وارث ہیں اہلِ بیتِ مطہّر بہشت کے کرتے ہیں ذکر شاہِ امم ﷺ ، اہلِ بیت کا ان پر درود بھیجنا سنت خدا کی ہے بھرتے فرشتگاں بھی ہیں دم اہلِ بیت کا وقتِ وداع لب پہ تبسم کِھلا ہوا دیکھے تو کوئی جاہ و حشم اہلِ بیت کا کربل کے امتحاں میں سبھی سرخرو…
Read Moreسید مقبول حسین ۔۔۔ کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں
کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں کیوں لیے پھرتے ہو یہ لعل و گہر آنکھوں میں ہم تو آنے کے لیے کب سے کھڑے ہیں لیکن تم نے رکھا ہی نہیں ہے کوئی در آنکھوں میں پیار سے اس کی طرف دیکھ لیا کیا میں نے وسوسے رہنے لگے بن کے بھنور آنکھوں میں کب حسیں کوئی اچانک یونہی در آتا ہے دل کی ہوتی ہے کوئی راہ گزر آنکھوں میں یوں ہی رونا کہاں آتا ہے کسی کو مقبول اشک ہوتے ہیں کسی غم کا ثمر…
Read Moreسید قاسم جلال ۔۔۔ رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے
رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے ڈھونڈتا ہوں میں جسے ، وہ کون سی محفل میں ہے خوں ابھی کافی رگِ جانِ تنِ بسمل میں ہے ’’دیکھتے ہیں زور کتنا، بازوئے قاتل میں ہے‘‘ ہے تحرک اور تموّج ہی سے دریا کی شناخت خامشی شہرِ خموشاں کی ، اگر ساحل میں ہے جانے کب پہنچیں گے قاتل ، کیفرِ کردار تک خونِ مقتولاں ، تلاشِ منصفِ عادل میں ہے اس جہاں میں پائے جنّت اور ہو وہ دائمی محو ، انساں آج تک ، اس…
Read Moreرشید آفرین ۔۔۔ شوقِ منزل لیے چلو تنہا
شوقِ منزل لیے چلو تنہا رہ گزر کو سنوار دو تنہا ہر مصیبت میں تم رہو تنہا ظلم جو بھی ہو وہ سہو تنہا وقت کی تند و تیز آندھی میں جل سکو گر تو ہاں ! جلو تنہا گر زباں میں ہو شعلۂ فطرت بات جب بھی کہو ، کہو تنہا آرزو کا چمن مہک اُٹھے کبھی تنہائی میں ملو تنہا کوئی پوچھے تو حال اُس دِل کا جو بھری بزم میں بھی ہو تنہا آفریں کون ساتھ دیتا ہے زندگانی کے سانس لو تنہا
Read Moreسید قاسم جلال ۔۔۔ کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش
کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش بولا میں جب اُن سے تو ہوئے کیوں وہ گراں گوش غم بھی ہیں اگر ساتھ خوشی کے ، تو نہ گھبرا ہیں روزِ ازل سے ہی گُل و خار ، ہم آغوش پیوستہ ہیں اک دوسرے سے، علّت و معلول تیرا ہے قصور اور کسی کا نہ کوئی دوش کر سکتی ہے کیا فکرِ سلیم ، اپنا کوئی کام جب جوش کے ہو زیرِنگیں ،سلطنتِ ہوش آقاؐ ہے مِرا سُرمہ ، تیری خاک کفِ پا ہے تاجِ فضیلت…
Read Moreاظہر عباس ۔۔۔ منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت
منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت ہم پھر بھی چل رہے ہیں اسی سانحے سمیت دنیا میں کچھ نہیں ہے سوائے وصال کے تجھ کو زمیں میں گاڑ دوں اس فلسفے سمیت؟ اس میں لکھا ہوا ہے سبھی برج ہیں خلاف تو پھر بھی ہے قبول اسی زائچے سمیت سننے میں آ رہا ہے کہ تو عالی ظرف ہے اے ہجر! دے پناہ مجھے قہقہے سمیت دو دو عطا ہوئی ہیں یہ شاید اسی لیے دیکھیں گی تجھ کو ساتھ میں آئے ہوئے سمیت پھر ہم بھی مان لیں…
Read Moreاظہر عباس ۔۔۔ مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک
مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک اک روز میں ہوں گا تجھے درکار ، انا الاشک میں اس کے شہیدوں کی ہوں تاریخ کا راوی ہوں خواب قبیلے کا عزادار ، اناالاشک پھر آنکھ سے بھی دیس نکالا مرا آیا بس اتنا بتایا تھا کہ سرکار ، انالاشک کیوں اتنا گھمنڈ آپ کو ہے ضبط و انا پر کر جاؤں گا مسمار یہ دیوار، اناالاشک یہ آنکھ کی سرحد بھی بدل دیتی ہے سب کچھ اس پار انا الحزن تو اُس پار ، اناالاشک یہ سارے سخنور…
Read Moreرشید آفرین ۔۔۔ نہیں انسان کے کوئی برابر
نہیں انسان کے کوئی برابر ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر کوئی آئے جواں ایسا دِلاور بچا لے آدمیت کو جو آ کر جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر طلب میری کرم کی بھیک ہر پل درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر اُبھر کر جا لگا آخر کنارے تھا جو…
Read More