رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے
Read MoreTag: Poetry
مجروح سلطان پوری
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
Read Moreعندلیب شادانی
دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشے کا دستور نہیں
Read Moreاداجعفری
دل کی آزردگی بجا لیکن وہ بھی محرومِ یک نگاہ رہے
Read Moreادا جعفری
پھر نگاہوں کو آزما لیجے پھر وفاؤں پہ اشتباہ رہے
Read Moreراحت اندوری
خیال تھا کہ یہ پتھراؤ روک دیں چل کر جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے
Read Moreراحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ اِبتدا (حمدیہ)
اِبتدا تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے تُو نورِ مسجد و معبد، تُو میرا ربّ ِاَحد مرا حدیقہ جاں تیرے اِنضباط میں ہے جو لب پہ جاری ہو سُبَحانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے میں تجھ سے چاہوں مدد نعتِ مصطفیٰ ؐ کے لیے مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے تری خبر مجھے…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ معروضات
معروضات فنی نقطۂ نظر سے نعت، حضور ﷺ کے اوصاف و محاسن کا بیان ہے۔ اس کا لغوی مفہوم اگرچہ وصف ہے اور وصف نگاری کسی شخصیت کے لیے بھی ہو سکتی ہے ، لیکن اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے حضور ﷺ کی وصف نگاری ہی کو نعت کہا جائے گا۔ اس تناظر میں حضورﷺ کے اوصافِ حسنہ کے ذکر کے بجائے اگر مدّعا طلبی اور آپ سے وابستگی و والہیت اور دلی جذبات کے اظہار کا پہلو بھی شامل ہو تو اسے میں نعتیہ جذبات نگاری سے تعبیر کرتا…
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔ خالد علیم کی نعت نگاری
خالد علیم کی نعت نگاری خالد علیم کی نعت کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک پرزم (منشور مثلثی) کی مثال کو سامنے رکھنا مناسب ہوگا۔ جس طرح پرزم کے تین رخ ہوتے ہیں، جن میں سے روشنی کی شعاعیں گزر کر مختلف رنگوں میں منقسم ہو کر پھیل جاتی ہیں، اسی طرح خالد کے فنِ شعر گوئی میں بھی تین نمایاں رخ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سے گزر کر ان کی شاعری کی تین بنیادی خصوصیات کئی ایک محاسن میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ اس منشور مثلثی کا…
Read More