There will be no edges, but curves. Clean lines pointing only forward. History, with its hard spine & dog-eared Corners, will be replaced with nuance, Just like the dinosaurs gave way To mounds and mounds of ice. Women will still be women, but The distinction will be empty. Sex, Having outlived every threat, will gratify Only the mind, which is where it will exist. For kicks, we’ll dance for ourselves Before mirrors studded with golden bulbs. The oldest among us will recognize that glow—…
Read MoreTag: Poets
خورشید رضوی
ہم تلاشِ لعل بے ہمتا میں اب نکلےکہ جب شام کے پرتو سے پتھر ارغوانی ہو گئے
Read Moreنیازت علی نیاز … بہت بھونچال لاتی ہے بڑی خوں ریز ہوتی ہے
بہت بھونچال لاتی ہے بڑی خوں ریز ہوتی ہے تہارا نام لوں تو دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے کسی کی یاد راتوں کو مجھے سونے نہیں دیتی مرا کاغذ قلم ہوتا ہے میری میز ہوتی ہے میں اک سیدھا پہاڑی آدمی کہتاہوں ،کرتا ہوں مگر وہ چالبازی میں تو جوں انگریز ہوتی ہے تمہیں کیسے بتاؤں زندگی کیسے گزرتی ہے ہمہ دم آنکھ اشکوں سے مری لبریز ہوتی ہے تعفن پھیلتا ہے زندگی میں جب بھی دنیا کا تری یادوں کی خوشبو سے نشاط انگیز ہوتی ہے محبت دار…
Read Moreجعفر علی خان ذکی
عشق میں نسبت نہیں بلبل کو پروانے کے ساتھ وصل میں وہ جان دے یہ ہجر میں جیتی رہے
Read Moreمحمد اویس ہمدم … مجھے درد اپنا چھپانا پڑے گا
مجھے درد اپنا چھپانا پڑے گا کسی کے لیے مسکرانا پڑے گا مجھے دل سے یادوں کی ان پھڑ پھڑاتی سبھی تتلیوں کو اڑانا پڑے گا مرا درد سمجھیں، یہ بے درد کیسے کسی صاحب دل کو لانا پڑے گا جو دھڑکن میں میری ردھم ہے سجن کا بھجن بھی سجن ہی کا گانا پڑے گا بڑا دکھ ہوا بوڑھی سانسوں کی سن کر کہ پھر زندگی کو منانا پڑے گا محبت کا جوہر ہے ضدوں کے گھر میں یہ نفرت کے گھر کو بتانا پڑے گا مری لاش پر…
Read Moreنواب مرزا داغ دہلوی … حیا و شرم سے چُپ چاپ کب وہ آ کے چلے
حیا و شرم سے چُپ چاپ کب وہ آ کے چلے اگر چلے تو مجھے سِیدھیاں سُنا کے چلے وہ شاد شاد دمِ صبح مُسکرا کے چلے ستم تو یہ ہے کہ مجھ کو گلے لگا کے چلے یہ چال ہے کہ قیامت ہے اے بُتِ کافر! خدا کرے کہ یوں ہی سامنے خدا کے چلے ہمارے دُودِ جگر میں ذرا نہیں طاقت یہ ابرِ تر ہے کہ گھوڑے پہ جو ہَوا کے چلے مرے بُجھائے بُجھے گی نہ یہ لگی دل کی بُجھاتے جاؤ کہاں آگ تم لگا کے…
Read Moreبہزاد لکھنوی
آہ کرتا ہوں اس لئے ہر دم میرے غم کا ، خدا گواہ رہے
Read Moreجلیل عالی
سب کہکشائیں دُھول ہوئیں دَھن کی دھوپ میں دل کے افق سے خواب ستارہ نہیں گیا
Read Moreغلام ہمدانی مصحفی
تُجھ سے میں یہ نہیں کہتا کہ تُو تلوار نہ کھینچ اپنے دامن کو ، مرے ہاتھ سے اے یار ، نہ کھینچ
Read Moreعلی اصغر عباس
خدا کے ساتھ محبت ہی کر رہے تھے ہمکسی نے بیچ میں آکے فساد ڈال دیا!
Read More