یہ جانوں ہوں کہ دل کو ہے اُس رو ومو سے لاگ کیا جانوں ، پیش آوے ہے اب صبح و شام کیا
Read MoreTag: Poets
ریاض رومانی … اپنی گٹھڑی خود اٹھانا ہے اسے بھاری نہ کر
اپنی گٹھڑی خود اٹھانا ہے اسے بھاری نہ کر ہم نفس بازار سے اتنی خریداری نہ کر کون کافر ہے شہیدوں میں گنا جائے کسے اے فقیہ ِ شہر عجلت میں سند جاری نہ کر مار ڈالے گا تجھے یہ بوجھ اک دن دیکھنا خود پہ احساسِ ندامت اس قدر طاری نہ کر اور لوگوں کے لئے تو معتبر ہوگا مگر میرے اندر کے مکیں مجھ سے اداکاری نہ کر جس طرح سے ہے اسے ایسے ہی رہنے دے ذرا اس شکستہ لوح پر لفظوں سے گل کاری نہ کر
Read Moreمنشی محمد احمد صاحب
گم کیا عشق نے ایسا کہ نہیں ملتا اب لامکاں میں بھی پتہ آپ کے شیدائی کا
Read Moreمسعود منور
تم مجھے چھوڑ کے جنّت کو نکل جاؤ اگر پھر تو میں لوٹ کے لاہور چلا جاؤں گا
Read Moreکرامت بخاری ۔۔۔ خوشیوں کے دن کم ہوتے ہیں
خوشیوں کے دن کم ہوتے ہیں باقی غم ہی غم ہوتے ہیں بزمِ شبِ ہجراں میں اکثر تم ہوتے ہو ہم ہوتے ہیں راہ ِعدم کو جانے والے کتنے تیز قدم ہوتے ہیں معنی اور مفہوم ہمیشہ حرف کی ذات میں ضم ہوتے ہیں وہ تلوار سے کب ڈرتے ہیں جن کے ہاتھ قلم ہوتے ہیں اہلِ سخن کی بات نہ پوچھو کے ہوتے ہیں جم ہوتے ہیں یاد پرانی یاد آئے تو منظر کتنے نم ہوتے ہیں ہم جیسے بھی لوگ کرامت ؔ ہوتے ہیں پر کم ہوتے ہیں
Read Moreجعفر ساہنی
پیڑ پودے تو خوف کھاتے ہیں گھاس پر اُس کا بس نہیں چلتا
Read Moreسعادت سعید … کل علمِ کائناتِ سلائف کے فیلسوف
کل علمِ کائناتِ سلائف کے فیلسوف مجھ کو تو لگ رہے ہیں غفائف کے فیلسوف ارضِ خیالِ بے سرو پائی کا اسم ہیں اوصافِ مہملاتِ شرائف کے فیلسوف لفظوں سے اُن کا واسطہ شاید نہیں رہا حرفوں کو جانتے ہیں حرائف کے فیلسوف لینے لگے ہیں جاگتے خوابوں کی لذتیں پریاں سلا رہی ہیں لحائف کے فیلسوف ہر روز ذبح کرتے ہیں پُرشوق مرغیاں موجِ گمانِ کبرِ نوائف کے فیلسوف کرتے ہیں لوٹ مار کی کھل کر حمایتیں عہدے بٹورنے کو شرائف کے فیلسوف کہتے ہیں اپنے آپ کو مر…
Read Moreمحمد حنیف … زور سے میرے بھائی دے آواز
زور سے میرے بھائی دے آواز تا کہ سب کو سنائی دے آواز اب مرا لوٹنا نہیں ممکن چاہے ساری خدائی دے آواز کتنی حساس ہیں مری آنکھیں مجھے سن کر دکھائی دے آواز لاؤ رختِ سفر مرا کہ مجھے پربتوں کی ترائی دے آواز یہ ترے کان بج رہے ہیں حنیفؔ یہ جو اُس کی سنائی دے آواز
Read Moreاظہر فراغ… صرف اس کی دکان چل رہی ہے
taza صرف اس کی دکان چل رہی ہےتیز جس کی زبان چل رہی ہے یہ ہوا دشت کی نہیں لگتیجس قدر بے نشان چل رہی ہے کون حائل ہو اس کے رستے میںیوں سمجھئے چٹان چل رہی ہے راہ سے ہٹنا چاہتی ہو گیراہ کے درمیان چل رہی ہے آپ بیتی میں کیسا رد و بدلکون سا داستان چل رہی ہے
Read Moreشاہد اشرف… اس طرح شہری گھروں میں خوف سے بیٹھے ہوئے ہیں
اس طرح شہری گھروں میں خوف سے بیٹھے ہوئے ہیںجیسے زنداں میں سزائے موت کے قیدی پڑے ہیں جب کوئی باہر نکلنا چاہتا ہے گھر سے اپنےچار جانب سے کئی نا دیدہ خدشے دیکھتے ہیں جاگتے میں دیکھ لوں گا, تم اگر سونے نہ دو گےخواب تکیے پر جو میرے قابلِ ضبطی رکھے ہیں سر اُٹھائے بیل اپنے دھیان میں چھت پر چلی تودیکھ کر کھڑکی کھلی کمرے میں کچھ پھول آ گئے ہیں ماسک مجبوری کو چہرے پر عیاں ہونے نہ دے گاباوجود اس کے کشادہ دل کھلے بازو…
Read More