کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے
جِس اُور بڑھا ہوں میں ، وہ در کھلتا گیا ہے
یوں گھورتے ہیں مجھ کو ترے شہر کے باسی
جیسے کہ محبت نہیں کی ، جرم کیا ہے
میں جال میں الجھا ہوا تھا اور اچانک
صیاد مرے پاؤں میں خود آن گرا ہے
یہ عشق ‘ محبت تو ہے ایمان کا حصہ
شک ذہن میں در آیا ، مرا جرم بڑا ہے
آہٹ کوئی محسوس ہوئی ہے سرِ دہلیز
دستک کی ضرورت نہیں ‘ دروازہ کُھلا ہے
میں کچھ بھی نہیں تھا ہے محبت کی کرامت
اس نے ہی مجھے ہو نے کا احساس دیا ہے
برباد کیا جِس نے وہی کہتا ہے شاہد
یوں اُجڑا ہوا دیکھ کے افسوس ہوا ہے
