آفتاب محمود شمس ۔۔۔ کبھی تو پھول کبھی خار لکھے جاتے ہیں

کبھی تو پھول کبھی خار لکھے جاتے ہیں
کہانیوں میں جو کردار لکھے جاتے ہیں

جو تیرے سامنے چاہت کی بات کر جائیں
دل و دماغ سے بیمار لکھے جاتے ہیں

جفا کے شہر کی پریاں چڑیل جیسی ، تو
مکان کوچے پراسرار لکھے جاتے ہیں

وفا کی بات بھی جن کی زباں کو آتی نہیں
یہاں پہ جنگ کے سالار لکھے جاتے ہیں

گلاب سوگ ہوا کرتے ہیں لحد پر شمس
سجیں جو بالوں میں ،سنگار لکھے جاتے ہیں

Related posts

Leave a Comment