اکرم کنجاہی ۔۔۔ نسائی شاعری کا ارتقا

نسائی شاعری کا ارتقا

یہ بجا سہی کہ شعرأ نے سخن گوئی میں بڑی پروازِ فکر اور رفعتِ خیال کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے شاعری کو اظہارِ ذات سے لے کر نفیِ ذات تک ہر موضوع اور مضمون سے آشنا کیا ہے۔ یہ بھی بجا ہے کہ ہئیت اور فکر کے تجربوں میں انہیں شاعرات پر فوقیت حاصل رہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ زندگی اور اُس کے متعلقات کے بہت سے ایسے گوشے ہیں، کئی ایسی نازک معاملات اور موضوعات ہیں جن پر ایک شاعرہ ہی نہ صرف بہتر اُسلوب میں اظہار کر سکتی ہے بلکہ تاریخِ ادب گواہ ہے کہ اُن موضوعات پر صرف شاعرات ہی نے کہیں دھیمے پن میں اور کہیں بلند آہنگ میں اظہار کیا ہے۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اُردو شاعری کا فکری و اُسلوبیاتی ارتقا ہمارے عہد تک پہنچا ہے تو اب عورت کے مسائل، آزادیوں اور پورے حقوق کی بات کی جا رہی ہے مگر یہاں تک آتے آتے، شاعرت نے جتنی تگ و دو کی، اُس کی مشکلات اور کٹھنائیوں سے کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں اُردو زبان کی شاعرات کی تعداد بے شمار ہے۔اِس لیے کسی ایک مضمون میں تمام کے فکرو فن کا فرداً فرداً احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ البتہ نسائی شاعری کے ارتقا میں ایسی نام ور خواتین جن کی شعر گوئی نے اپنے معاصرین کے علاوہ آئندگان کو بھی متاثر کیا اُن کا ذکر بہر حال ممکن ہے اور لازمی بھی۔ایک بات پورے تیقن کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ۱۹۳۰ء کے عشرے سے لے کر آج تک جتنی ادبی تحاریک کا آغاز ہوا ،یا جتنے ادبی و شعری رجحانات سامنے آئے، خواتین اہلِ قلم نے اُن میں بھر پور حصہ لیا۔لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ اُن کی تخلیقات میں بھی انسانی جذبات و احساسات کی ترجمانی اور تجربات و مشاہدات کا بیان اُتنا ہی بھر پور اور توانا ہے جتنامرد اہلِ قلم کی نگارشات میں تو غلط نہیں ہو گا۔انیسویں صدی کے اختتام سے تھوڑا پہلے اور پھر بیسویں صدی کی پہلی دہائی کے ساتھ ہی اُردو نظم میں فکر و خیال اور مضامین ہی کے نہیں ہئیت کے بھی بہت سے تجربات ہوئے۔ترقی پسند تحریک کے آغاز سے تقسیمِ ہند تک اُردو نظم کو بے شمار عمدہ نظم گو میسر آئے۔ آخر الذکر مختصر عرصے میں اور تقسیم کے بعد خواتین اہلِ قلم نے بھی بے حد عمدہ نظمیں کہیں۔اُن ابتدائی شاعرات میں ادا جعفری کے علاوہ صفیہ شمیم ملیح آبادی،زہرا نگاہ،رابعہ نہاں، کشور ناہیداور فہمیدہ ریاض نے مختلف رومانی موضوعات کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں اور سیاسی رجحانات پر نظمیں کہیں۔اگر ہم گزشتہ صدی کے آخری برسوں اور موجودہ صدی میں شاعرات کے کلام کا جائزہ لیں تو بسمل صابری، شاہین مفتی، شبنم شکیل، پروین شاکر، فاطمہ حسن، غزالہ خاکوانی، ثمینہ راجہ، شہناز مزمل، ناہید قاسمی اور دیگر نے بھی شعر وادب کو اپنے عہد کی تلخ حقیقتوں اور نئی صداقتوں سے آشنا کیا ہے۔اسے ریاضتِ فن کی طوالت یا اختصار کا نام دیجیے یا ذاتی تجربات اور مشاہدات میں بُعد، ایک ہی عہد اور معاشرت میں سانس لینے کے باوجود عذرا عباس، نجمہ منصور، منزہ احتشام گوندل، بشری اعجاز اور فاخرہ بتول کا رنگ اور آہنگ مختلف ہے۔

Related posts

Leave a Comment