وسیم جبران ۔۔۔ دو غزلیں

فتنہ ہے، تعصب ہے، بندوق ہے ، گولی ہے اِس شہر میں ہر لحظہ بس خون کی ہولی ہے اک نام لیا اُس نے کچھ ایسی محبت سے گویا مرے کانوں میں شیرینی سی گھولی ہے پت جھڑ کی وہی شامیں، آنسو بھی نظر آئے یادوں کی کوئی کھڑکی جب آنکھ نے کھولی ہے اک بار نظر بھر کے دیکھا ہے مجھے اُس نے اک آن میں یہ ہستی مخمور ہے ڈولی ہے میرا نہ تھا وہ کل بھی، سمجھا ہے یہ اب میں نے ہر بات محبت کی ادراک…

Read More

سعید راجہ ۔۔۔ مدارِ عشق میں آ کر کلام کرنے لگا

مدارِ عشق میں آ کر کلام کرنے لگاازل سے چپ تھا جو فر فر کلام کرنے لگا تمام ہونے لگی تھی سماعتوں کی طلبپھر ایک روز وہ پتھر کلام کرنے لگا ہمارے شہر میں قدغن تھی بات کرنے پرمیں اپنے آپ سے چھپ کر کلام کرنے لگا مری زبان کو لکنت نے آ لیا تھا مگروہ ہنس پڑا تو میں بہتر کلام کرنے لگا درونِ چشم ذرا سی تری جھلک اُتریمری نگاہ سے منظر کلام کرنے لگا یہ کس طلسم کدے میں صدا لگا بیٹھےجواب میں عجب اک ڈر کلام…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ کیا آخرت کا رنج کہ بھوکے ہیں پیٹ کے

کیا آخرت کا رنج کہ بھوکے ہیں پیٹ کے ہم لوگ خوش ہیں آج بھی دنیا سمیٹ کے کتنی تھی احتیاج ہمیں آفتاب کی بیٹھے تھے کچھ پہاڑ بھی برفوں پہ لیٹ کے مہکا ہوا تھا روحوں میں باردشبوںکا غم ہم لوگ کاٹتے رہے دن ہاڑ جیٹھ کے ہم سامنے تھے میز پہ اک دکھ کے ساتھ تھے بس نقش دیکھتے رہے خالی پلیٹ کے ٹھوکر لگی تو صف کی طرح جسم کھل گئے اک سمت رکھ دیے تھے کسی نے لپیٹ کے رکھا تھا رات بھر ہمیں بے چین…

Read More

نوید مرزا ۔۔۔ درّۂ خاک جب اکڑتا ہے

درّۂ خاک جب اکڑتا ہے تب اُسے آسماں جکڑتا ہے روک سکتا ہے کون ہونی کو کیوں مقدر سے اپنے لڑتا ہے مفلسی جیب سے نہیں ہوتی شاہ بھی ایڑیاں رگڑتا ہے پیڑ سے وہ گلہ نہیں کرتا جو بھی پتّا خزاں میں جھڑتا ہے ایک مدّت کے بعد بھی نہ ملے فرق اس بات سے تو پڑتا ہے جو کہانی بھی لکھ رہا ہے نوید اپنا کردار اس میں گھڑتا ہے

Read More

جاوید قاسم ۔۔۔ وقت نے، جب نہ کچھ سنائی دیا

وقت نے، جب نہ کچھ سنائی دیا مجھ کو اذنِ سخن سرائی دیا اُس سماعت میں جب سنائی دیا پھر کہیں خود کو میں دکھائی دیا قیدِ ارضِ و سما میں اُس نے رکھا کب کوئی لمحۂ رہائی دیا تازہ طرزِ ستم کی دیتا رہا شہر میں رات بھر دہائی، دیا دے کے تلوار میرے ہاتھوں میں اُس نے پھر دستِ پارسائی دیا یہ بھی اک اُس کی مہربانی ہے بیٹوں جیسا ہر ایک بھائی دیا آ گیا سر پھری ہوائوں تک دیتے دیتے مری صفائی، دیا اب بھی قاسم…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ علی اصغر عباس

عروجِ بندگی کا یہ صلا تھا کہ خود معبود اپنے گھر ملا تھا بنایا عرش پر مہمان اُن کو مقامِ عبد یوں ظاہر کیا تھا بٹھایا نوریوں میں اک بشر کو وہ پیکر نور سے بھی کچھ سِوا تھا شبِ اسریٰ نے یہ اسرار پایا نبی ؐ کا جسمِ اطہر معجزہ تھا ازل سے پیش تر بعدِ ابد تک کوئی کب دیکھنے والا دِکھا تھا گئے وقتوں کا وہ راوی مصدق کہ استقبال کا بھی پیش پا تھا مکمل، کامل و اکمل وہ انساں خدا کے فخر کا اظہاریہ تھا…

Read More

نوید صادق ۔۔۔ جانے ٹوٹا تھا آسمان کہ دل (علی اصغر عباس کی غزل)

جانے ٹوٹا تھا آسمان کہ دل(علی اصغر عباس کی غزل) سوچ رہا ہوں ، بات کہاں سے شروع کی جائے، علی اصغر عباس کی شخصیت سے، علی اصغر عباس کی غزل سے، علی اصغر عباس کی نظموں سے ، حمدوں نعتوں سلاموں یا کالم نگاری سے… بات شخصیت کے حوالے سے کی جائے تو ایک ہنستا مسکراتا چہرہ… کم از کم میں نے علی اصغر عباس کو رنجور کبھی نہیں دیکھا۔دھیما لہجہ، دوسروں کو اپنے دامِ محبت میں گرفتار کر لینے کو یہ خوبیاں بہت ہیں۔ لیکن شخصیت محض انھی…

Read More

خواجہ عزیز الحسن مجذوب ۔۔۔ عبث کہتا ہے چارہ گر ،یہاں تک تھا، یہاں تک ہے

عبث کہتا ہے چارہ گر ،یہاں تک تھا، یہاں تک ہے وہ کیا جانے کہ زخمِ دل کہاں تک تھا، کہاں تک ہے مرا خاموش ہو جانا دلیلِ مرگ ہے گویا مثالِ نَے مرا جینا فغاں تک تھا، فغاں تک ہے نہ دھوکہ دے مجھے ہمدم وہ آیا ہے نہ آئے گا پیامِ وعدۂ وصلت زباں تک تھا، زہاں تک ہے کٹی روتے ہی اب تک عمر آگے دیکھیے کیا ہو بتاؤں کیا کہ دل میں غم کہاں تک تھا، کہاں تک ہے وہاں تک قیس کب پہنچا، وہاں فرہاد…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم …. اکرم کنجاہی

نظر ہی آدمی کی جب نہ حالِ زار تک پہنچےجو آنسو قیمتی ہے وہ مری سرکار تک پہنچےبھری دنیا میں خیمہ زن خزائیں دیکھ کر مولاعنادل سب مدینے کے گُل و گُلزار تک پہنچےکوئی میں آہ کھینچوں درد سے لب ریز ہو شاہا!ترے پیارے مدینے کے در و دیوار تک پہنچےبلالیؓ عشق ہے میرا نہیں تاثیر سے خالیاذاں میری سحر والی اُفُق کے پار تک پہنچےزمین و آسماں تک جو حسین و خوب صورت ہےجہانِ آب و گِل میں کب ترے شہکار تک پہنچےکوئی بھی راز تیرا دو جہاں میں…

Read More