ثمینہ راجا

سامر ۔۔۔۔۔ جادو اثر ہے جو بھی تُو تسبیح پر پڑھتا ہے صبح و شام میرے سامنے آنکھوں میں تیری سِحر ہے آواز میں ہے ساحری تیرے بدن کے آبنوسی رنگ میں ہے وہ کشش جو مجھ کو پاگل کر گئی چہرہ ترا ۔۔۔ بچپن سے میرے خواب میں آتا رہا ماتھے پہ کالی زلف کی یہ اُلجھی لٹ میرے پریشاں دل سے الجھی ہی رہی نظروں میں منڈلاتی رہیں چوڑی بھنویں اور گہری آنکھیں میرا رستہ روکتی آنکھیں تری جادو بھری یکساں نظر سے خوں کی اک اک بوند…

Read More

دلاور علی آزر … وہ ناؤ ڈوب گئی اب کنارہ چل رہا ہے

وہ ناؤ ڈوب گئی اب کنارہ چل رہا ہے ٹھہر گیا تھا سمندر دوبارہ چل رہا ہے یہ کس کے خواب میں لَو دے رہی ہے چھب کس کی یہ کس کی نیند میں کس کا ستارہ چل رہا ہے کسی نے مجھ سے جو احوالِ واقعی پوچھا تو میں نے اُس کو بتایا گزارا چل رہا ہے ابھی تو فیصلہ آیا نہیں محبت کا ابھی سے کچھ نہ کہو ، استخارہ چل رہا ہے ابھی تو حفظ مکمل نہیں ہوا اپنا ابھی تو ہجر کا پہلا سپارہ چل رہا…

Read More

اعجاز گل ۔۔۔ مسلسل رفت و آمد کی کہانی ایک سی ہے

مسلسل رفت و آمد کی کہانی ایک سی ہے جو تفریق ِ سکونت ہے پرانی ایک سی ہے ہوا تقسیم تحفہ رزق کا حسبِ مراتب کہاں اس نے عطا کی زندگانی ایک سی ہے برابر چل رہا آسیب ہے یہ ناگہاں کا ڈراتی سب کو آفت ناگہانی ایک سی ہے کیا ایجاد گردش سے زمیں نے وقت اپنا نہیں اب نیچے اوپر لازمانی ایک سی ہے نہیں ہے احمقانہ پن میں یکسانی تو شاید یہ دنیا اپنے مطلب کو سیانی ایک سی ہے نہ قائم چال پر اپنی ہے یہ…

Read More

رضوان احمد … شاد عظیم آبادی (ایک تعارفی مضمون)

شاد عظیم آبادی   ۔۔۔ ایک تعارفی مضمون علی محمد شاہ عظیم آباد کی پیدائش مغل پورہ کے ایک متوسط خاندان میں 8جنوری 1846ءکو ہوئی تھی۔ ان کا زمانہ سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے بے حد ہیجان انگیز تھا، بظاہر تو ساری چیزیں درست نظر آتی تھیں لیکن صرف گیارہ برس بعد جنگ آزادی کی شروعات ہو گئی تھی جسے غدر کا نام دیا جاتا ہے۔  لڑکپن ہی سہی لیکن شاد عظیم آبادی نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس سے ان کی شاعری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ہمارے گھر پہ کبھی سائبان پڑتا نہیں

ہمارے گھر پہ کبھی سائبان پڑتا نہیں یہ وہ زمیں ہے جہاں آسمان پڑتا نہیں پڑاؤ کرتے چلے راہ میں تو چلنا کیا سفر ہی کیا ہے اگر ہفت خوان پڑتا نہیں بجھانی ہو گی ہمیں خود ہی اپنے گھر کی آگ کہیں سے آئے گی امداد جان پڑتا نہیں مزے میں ہو جو تمھیں بے زمین رکھا ہے کہ فصل اگاتے نہیں ہو، لگان پڑتا نہیں عطا خلوص نے کی ہے یقین کی دولت گمان اس کے مرے درمیان پڑتا نہیں ہم احتجاج کسی رنگ میں نہیں کرتے ہمارے…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ تھے نگاہوں میں جن راستوں کے شجر، اور تھے

تھے نگاہوں میں جن راستوں کے شجر، اور تھے دل مسافر کو درپیش تھے جو سفر، اور تھے بس رہا تھا مری سوچ کے آسمانوں پہ جو اور ہی شہر تھا اس کے سب بام ودر، اور تھے وہ جو چہروں پہ لکھا ہوا خوف تھا ،اور تھا وہ جو سینوں کے اندر پنپتے تھے ڈر ،اور تھے سب جبینیں وہاں تھیں زمیں بوسیوں میں مگن کٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے جو سر، اور تھے شوق طغیانیوں پر بھی سنبھلی رہیں دھڑکنیں ڈوب کر جن میں ابھرا نہ…

Read More

آصف ثاقب ۔۔۔ رنگ رنگیلی بزم ہے، چھیل چھبیلی شام

رنگ رنگیلی بزم ہے، چھیل چھبیلی شام مان بڑھانے آئے ہیں، رادھا اور شیام ربط ہے اپنا قیس سے، یاد ہے اُس کا نام لکھ کر برگِ خشک پر، بھیجیں روز سلام ترا سہارا سائیاں، ہم کو ملے ہر گام دست و بازو جنگ میں، گرتوں کو لیں تھام بیٹھے گتکے کھیل کر، یار بھی اور اغیار کون ہے جیتا شان سے، کون ہوا ناکام رونق میلا خوب ہے، تیز ہے ذوق و شوق بزم میں سب موجود ہیں، جام، پری، گلفام عشق سفر میں دید سے، آگے کیا ہے،…

Read More

مختار صدیقی ۔۔۔ ہرجائی

ہرجائی۔۔۔۔۔۔اتنی آنکھیں جن میں غلطاں مد بھری گہرائیاں!۔۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔ بھرے جوبن کی سرمستی سے چور۔۔۔۔۔۔کم سِنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نیم خام ان کا سرور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ اُٹھتی جوانی کی تڑپ سے ناصبور! ان گنت ہونٹوں کی بے پایاں شفق دہکی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیے کتنے سبک، کتنے سجل۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔ کتنے چغتائی کی جاں کاہی کا پھل۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ جن کا البیلا تناؤ پھول کی پتی کا بَللعل گوں پاروں کی پھلواری سدا مہکی ہوئی اور یہ کاکل، یہ تاباں سانپ لہرائے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کندنی رخ، چاندنی راتوں کے راگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شبنمی سونے میں یہ شعلوں کی…

Read More

نوح ناروی ۔۔۔ دل ہماری طرف سے صاف کرو

دل ہماری طرف سے صاف کرو جو ہوا سو ہوا، معاف کرو مجھ سے کہتی ہے اُس کی شانِ کرم تم گناہوں کا اعتراف کرو حسن اُن کو یہ رائے دیتا ہے کام اُمید کے خلاف کرو حضرتِ دل! یہی ہے دیر و حرم خانہِ یار کا طواف کرو طورِ سینا کی سمت جائیں کلیم نوح تم سیرِ کوہ قاف کرو

Read More

عنبرین خان ۔۔۔ دو غزلیں

کچھ کجی آپ میں ہے یا مرا ٹیڑھا پن ہے شخصیت میں وہی پہلے سا ادھورا پن ہے اک تعلق ہے تعلق نہیں جس کو کہتے میرا اپنا تو یہی ان کا پرایا پن ہے حرص سنجیدہ ہے مقصد کے لیے حرف بہ حرف اور معصوم کی فطرت میں کھلنڈرا پن ہے بزم آرائی سے بس اتنا سمجھ پائی ہوں میری خوشیوں کا سبب میرا اکیلا پن ہے جانے بے فیض ہیں اسباب و وسائل کتنے کتنے دریائوں کی تہذیب میں سوکھا پن ہے آج آنکھوں سے اتارا ہے کئی…

Read More