بشیر احمد حبیب ۔۔۔ اب جو بچھڑے ہیں تو ملنے کا گماں باقی ہے

اب جو بچھڑے ہیں تو ملنے کا گماں باقی ہے جیسے مٹ جانے کے بعد اگلا جہاں باقی ہے خواہشیں مرتی نہیں شکل بدل لیتی ہیں جل بجھا شعلۂ جاں کب کا، دھواں باقی ہے کس کی منزل تھی کہاں، کس کو کہاں رکنا تھا دید وا دید گئی، عمرِ رواں باقی ہے کتنے ساون مری آنکھوں میں اتر آتے ہیں سوچتا رہتاہوں کیا اور کہاں باقی ہے کتنے تاریک گھروندے ہیں مگر سوچو تو ایک اک ذرہ چمک سکتا ہے، جاں باقی ہے ہم وہ خوش فہم کہ پھر…

Read More

بشیر احمد حبیب ۔۔۔ آ نکھ تو ہے بینائی نہیں ہے

آ نکھ تو ہے بینائی نہیں ہے مَن بھیتر تنہائی نہیں ہے تیری باتیں کیسے جانوں تجھ تک مری رسائی نہیں ہے تیری آنکھوں میں جو دیکھی دریا میں گہرائی نہیں ہے دنیا داری کے جھگڑوں میں کوئی کسی کا بھائی نہیں ہے اُلفت کی اس راہ گزر میں شہرت ہے، رسوائی نہیں ہے دیکھ حبیب اب دنیا بھر میں دل ایسا سودائی نہیں ہے

Read More

محمد انیس انصاری ۔۔۔ نجانے کیسے لپٹ گئی ہیں مرے بدن سے ہزار آنکھیں

نجانے کیسے لپٹ گئی ہیں مرے بدن سے ہزار آنکھیں میں سونا چاہوں ، تو سونے دیتی نہیں مجھے سوگوار آنکھیں کسی پہاڑی پہ جا کے تنہا ، گئے دنوں کو بلا کے تنہا میں جب بھی رویا ، تو میرے ہمراہ روئیں وہ آبشار آنکھیں جہاں ملے تھے تم آخری بار ، دل گرفتہ ، بہ چشم گریاں پڑی ملیں گی اُسی جگہ آج بھی سرِ کوہسار آنکھیں گئے تھے جس دم سفر پہ تم ، دو چراغ جلتے تھے زیرِ اَبرو اب آئے ہو تو دریدہ دامن ،…

Read More

سید ریاض حسین زیدی ۔۔۔ روشنی آنکھ میں اتر آئے

روشنی آنکھ میں اتر آئے دل کو صورت کوئی نظر آئے کارفرما ہو صدق حرفوں میں لفظ ومعنی میں پھر اتر آئے دوستی آبلوں سے اچھی ہے کیا خبر راہ پر خطر آئے راحتیں اس کے پاؤں پڑتی ہیں آزمائش سے جو گزر آئے دست و بازو کا پھر ہنر مانیں راستے میں اگر بھنور آئے آنکھ پر بار ہے ستم خیزی آنکھ کیسے نہ روز بھر آئے دم بہ دم ہو ریاض ضو افشاں تیرگی زیر ہو ، سحر آئے

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

میں کہ تھا تشکیک کی بے نور دلدل کا اسیر نورِ ایماں سے مزین ہو گیا،بدر منیر غربتِ کم مائیگی سے ہوگئی میری نجات مجھ کو عرفانِ خدا نے کر دیا ثروت نظیر ہو گیا ارفع و اعلیٰ صاحبِ تقویٰ جو ہے وہ فقیرِ بے نوا ہو یا شہنشاہِ شہیر جس نے کشکولِ گدائی تیرے آگے رکھ دیا ظاہروباطن کی دولت سے ہوا بے حد امیر جس نے صدقِ دل سے مانا تو ہے شہ رگ سے قریب ہو گیا تیرے قریں،وہ ہو گیا تیرا نصیر وہ سر افرازِ جہاں…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ گیت

چاند تجھے کیسا لگتا ہے اپنے سندر چہرے جیسا یا مجھ سا تنہا لگتا ہے چاند تجھے کیسا لگتا ہے رنگوں کرنوں کا دلدادا رات کی رانی کا شہزادہ سج دھج میں پیارا لگتا ہے چاند تجھے کیسا لگتا ہے چرغ پہ گھومے مارا مارا جانے کون سی بازی ہارا اندر سے ٹوٹا لگتا ہے چاند تجھے کیسا لگتا ہے دن میں سوئے رات کو جاگے سوتن جانے جو تن لا گے کیوں الجھا الجھا لگتا ہے چاند تجھے کیسا لگتا ہے غم کوئی اس نے پالا ہو گا کسی…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ بات سے بات بنانے کا ہنر آتا ہے

بات سے بات بنانے کا ہنر آتا ہے مجھ کو آواز اُٹھانے کا ہنر آتا ہے میں نے پلکوں سے تراشے ہیں خدوخال ترے مجھ کو تصویر بنانے کا ہنر آتا ہے بات کرتی ہیں درختوں سے نئے لہجے میں شور چڑیوں کو مچانے کا ہنر آتا ہے زندگی جس نے گزاری ہے یہاں کانٹوں پر کیا اُسے پھول کھلانے کا ہنر آتا ہے مسکراتے ہوئے آنکھوں میں نمی رکھتا ہوں رونے والوں کو ہنسانے کا ہنر آتا ہے بستیاں جس نے اُجاڑی ہیں سہولت سے بہت؟ کیا اُسے شہر…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ 16 دسمبر 1971ء(سقوطِ مشرقی پاکستان) کی یاد میں ایک نظم

جو میرے پیارے دُلارے وطن کا حصہ تھا جو میرا بازو تھا، میرے بدن کا حصہ تھا جُدا ہوا ہے تو اُس کا ملال کیوں نہ کروں؟ تباہ کِس نے کِیا، یہ سوال کیوں نہ کروں؟ …………… جُدا ہوا جو مِرے دُشمنوں کی سازش سے اور اِس کے ساتھ کچھ اپنوں کی بھی نوازش سے بھلا بیان مَیں یہ سارا حال کیوں نہ کروں؟ تباہ کس نے کِیا، یہ سوال کیوں نہ کروں؟ …………… اُگیں گی نفرتیں ایسا گماں کہاں تھا کبھی محبتوں کا سمندر رواں دواں تھا کبھی مَیں…

Read More

امجد اسلام امجد ۔۔۔ لاکھ یہ امتحان سخت نہیں

لاکھ یہ امتحان سخت نہیں کامیابی کی کوئی شرط نہیں وقت سے بات چیت کیسے کریں! یہ بھی تو سوچنے کا وقت نہیں ایسے حالات میں جیے جانا خود پہ اک ظلم ہے ، یہ ضبط نہیں آپ کا نام زندگی ہے کیا؟ آپ کی گفتگو میں ربط نہیں کیا سفر میں کہیں پڑاؤ کریں شب گزاری کا بندوبست نہیں اپنے سائے میں بیٹھنا ہو گا دشت میں دور تک درخت نہیں گِر کے اُٹھنے کا حوصلہ ہو تو پھر سے گِرنا کوئی شکست نہیں آپ کا قد ہے آپ…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ تنہا بھٹکتی رُوحوں کی یکساں مَعاش ہے

تنہا بھٹکتی رُوحوں کی یکساں مَعاش ہے تم کو ہماری ، ہم کو تمھاری تلاش ہے میرا تمھارا رات کے باغوں میں گھومنا اک راز ہے جو صرف اندھیرے پہ فاش ہے دُنیا شکستہ ’’آئنہ دیوار‘‘ ہی نہ ہو ٹکرا کے جس سے عکس مرا پاش پاش ہے یہ لوگ زومبی فلم کے کردار ہی نہ ہوں ہر شخص چلتی پھرتی ہوئی زندہ لاش ہے انسان ہی تو سب سے بڑا ہے خدا پرست انسان ہی تو سب سے بڑا بُت تراش ہے سب سے زیادہ دیکھی گئی چیز ’’خواب‘‘…

Read More