غالب … بسکہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے

بسکہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے ناخنِ انگشت تبخالِ لبِ بیمار ہے زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغ ورنہ صد محشر بہ رہنِ صافیِ رخسار ہے در خیال آبادِ سودائے سرِ مژگانِ دوست صد رگِ جاں جادہ آسا وقفِ نشتر زار ہے جی جلے ذوقِ فنا کی نا تمامی پر نہ کیوں ہم نہیں جلتے، نفس ہر  چند آتش بار ہے ہے وہی بد مستی ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے مجھ سے مت کہہ تو ہمیں…

Read More

غالب ۔۔۔ نیم رنگی جلوہ ہے بزمِ تجلی رازِ دوست

نیم رنگی جلوہ ہے بزمِ تجلی رازِ دوستدودِ شمع کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست چشم بندِ خلق جز  تمثال خود بینی نہیںآئینہ ہے قالبِ خشتِ در و دیوارِ دوست برق خرمن زارِ گوہر  ہے نگاہِ تیز یاںاشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیِ رفتارِ دوست ہے سوا نیزے پہ اس کے قامتِ نوخیز سےآفتابِ روزِ محشر ہے گلِ دستارِ دوست اے عدوئے مصلحت چندے بہ ضبط افسردہ رہکردنی ہے جمع تابِ شوخیِ دیدارِ دوست لغزشِ مستانہ و جوشِ تماشا ہے اسدآتشِ مے سے بہارِ گرمیِ بازارِ دوست

Read More

شناور اسحاق ۔۔۔ گلیوں گلیوں از شاہین عباس

"گلیوں گلیوں” از شاہین عباس کارخانہ ہے”یاں” تو جادو کا شاہین عباس کی دوستی میرے قیمتی اثاثوں  میں سے ہے۔ اس کی محبت ہے کہ اس نے اپنی غزلوں کےچوتھے مجموعے "گلیوں گلیوں” کا نسخہ اول ناچیز کو بھجوایا ۔۔۔ اپنے دوستوں میں دو لوگوں کا استغراق ہمیشہ میرے لیے قابلِ رشک رہا ، ایک شاہین عباس اور دوسرے ۔۔۔   ان کا ذکر کچھ دنوں کے بعد آئے گا ۔۔۔ کچھ روز پہلے اپنے نظام شمسی کے بارے میں ایک مختصر دستاویزی فلم دیکھی ۔۔۔  اتنی بڑی کائنات میں زمین…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ میں ڈوبتے خورشید کے منظر کی طرح ہوں

میں ڈوبتے خورشید کے منظر کی طرح ہوں زندہ ہوں مگر یاد کے پتھر کی طرح ہوں آثار ہوں اب کہنہ روایاتِ وفا کا اک گونج ہوں اور گنبد ِبے در کی طرح ہوں اک عمر دلِ لالہ رُخاں پر رہا حاکم اب یادِ مہ و سال کے پیکر کی طرح ہوں کس کرب سے تخلیق کا در بند کیا ہے مت پوچھ کہ صحرا میں بھرے گھر کی طرح ہوں بپھرے  تو کنارے نظر آتے نہیں جس کے میں ضبط کے اُس ٹھہرے سمندر کی طرح ہوں بجھ جائے…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ بسمل صابری (مضمون)

بسمل صابری وہ عکس بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہےعجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے اُردو ادب سے دلچسپی رکھنے والا شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے یہ شعر نہ سنا ہو۔بسمل صابری کے اِس شعر نے مقبولیت کا بڑا سفر طے کیا ہے۔ اس شعر میں محبت کا والہانہ پن، ہجر و فراق کا کرب، نا تمامی و بے ثمری کا سوز و گداز اور جذبے کی صداقت قاری پر سحر طاری کر دیتی ہے۔ موصوفہ ساہیوال میں مقیم ہیں۔ کبھی مشاعرے…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ صالحہ عابد حسین (مضمون)

صالحہ عابد حسین صالحہ عابد حسین نے زندگی کے کھیل اور نقشِ اول جیسے ڈرامے بھی لکھے مگر انہیں شہرت ناول نگاری سے حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ  ’’یادگارِ حالی‘‘، ’’خواتینِ کربلا کلامِ انیس کے آئینے میں‘‘  اور ’’جانے والوں کی یاد آتی ‘‘ہے ان کی اہم تصانیف ہیں لیکن انہیں دائمی شہرت ایک ناول نگار کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔مصنفہ کا پہلا ناول عذر  ا ۱۹۴۲ء میں شائع ہوا۔ پھر آزادی کے بعد ان کے ناولوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔آتش خاموش،قطرے سے گہر ہونے تک، راہ عمل، اپنی…

Read More