ہماری قومی سیاست میں نوازشریف نہ تو مسیحا ہے اور نہ اتاترک جیسا کوئی آئیڈیل لیڈر، وہ کوئی فلاسفر ہے نہ تھنکر وہ جب بات کر رہا ہوتا ہے تو درویش کو کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ہتھے سے اکھڑ نہ جائے۔ اسکے ساتھ ہی اگر تنقید نگار حوصلے سے کام لیتے ہوئے ضمیر کی مطابقت میں اظہارِ خیال کی اجازت مرحمت فرما دیں تو یہ عاجز عرض گزار ہے کہ پچھلے 76، 77برسوں میں نہ اس ملک کو نواز شریف جیسا مخلص لیڈر ملا اور نہ ہی مسلم…
Read MoreDay: مئی 24، 2024
عطاالحق قاسمی ۔۔۔ گلی ڈنڈا سے کرکٹ تک
مجھ سے زیادہ بور دنیا میں کون ہو سکتا ہے کہ پوری دنیا میں کرکٹ کرکٹ ہو رہی ہے اور مجھ بور کو کرکٹ سے دلچسپی ہی کوئی نہیں۔ میں تھوڑا سا مبالغہ کر گیا ہوں دلچسپی ہوتی ہے مگر صرف اس وقت جب میچ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہو مگر پرابلم یہ ہے کہ پاکستان کو ہارتا دیکھ نہیں سکتا چنانچہ جب کبھی ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کرکٹ سے میری دلچسپی اس لمحے ختم ہو جاتی ہے۔ دراصل میں بہت سست انسان ہوں بچپن میں بھی…
Read Moreکشور ناہید ۔۔۔ افسوس ناک خبروں کا سلسلہ
کچھ دن ہوئے میری کتاب کے مترجم ڈاکٹر سفیر اعوان اپنے مکمل کیے ہوئے صفحات کو فائنل ٹچ دے رہے تھے۔ انہوں نے فون پر پوچھا ایک شہر کا نام سمجھ ہی نہیں آرہا۔ انہوں نے جب بتایا تو میں نے کہا ’’یہ بشکیک ہے‘‘ بہت سے پاکستانیوں کو سنٹرل ایشیا کے ممالک میں سے چند کے نام آتے ہیں۔ بشکیک کرغستان کا دارالحکومت ہے۔ میں نے اس شہر کا دو تین دفعہ سفر کیا ہے پہلے تو جب وہ روس کا حصہ تھا، آزاد ملک کی حیثیت میں بھی دو دفعہ مگر…
Read Moreمحسن اسرار
کس محبت سے آئے ہیں سیلاب گھر میں ہوتا اگر تو بہتا کچھ
Read Moreمحسن اسرار
کس سے پوچھوں یہاں پتا اپنا دھوپ کچھ کہہ رہی ہے، سایہ کچھ
Read Moreقابل اجمیری
کسی کی زلف پریشاں کسی کا دامن چاک جنوں کو لوگ تماشا بنائے پھرتے ہیں
Read Moreمحسن اسرار
تو خود بھی جاگتا رہ اور مجھ کو بھی جگاتا رہ نہیں تو زندگی کو دوسرا قصہ پکڑ لے گا
Read Moreمحسن اسرار
عجیب عالمِ حیرت ہے کارگاہِ حیات کسی کو دیکھنا چاہا، کوئی نظر آیا
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ مسرت افزا روحی
مسرت افزا روحی مسرت افزا روحی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔شاعرہ، ادیبہ، صحافی،مدیرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ اُن کا شعری مجموعہ ’’حرزِ جاں‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ صحافت کو بھی اپنایا اور ’’زاویۂ نگاہ‘‘ کی مدیرہ رہی ہیں۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’آوازیں‘‘ ۲۰۰۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔اُن کا مطالعہ خوب ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ کئی افسانے لکھنے کے لیے انہوں نے خاصی تحقیق بھی کی ہے۔قوتِ مشاہدہ تیز ہے۔وہ بھی اُن چند فکشن نگاروں میں سے ہیں جن کے افسانوں کا اختتامیہ…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ
اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ ٹھوکر بھی کھا کے آیا نہ جینے کا ہم کو ڈھنگ آتی نہیں ہے سطحِ یقیں پر وفا کی لہر رہتی ہے صبح و شام مزاجوں میں سرد جنگ ہر صبح دُکھ سے چور ملا زخم زخم جسم ہر شب تھرک تھرک گیا آہٹ پہ انگ انگ تھا جس سے میرے سچ کے تحمل کا ربطِ خاص اُترا اسی کے غم کا مری روح میں خدنگ ناآشنائے لذتِ لہجہ تھے سب ہی لوگ کیا کیا بساطِ لب پہ بکھیری نہ قوسِ…
Read More