بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اس دنیا کے اندر ایک اور دُنیا موجود ہے جس میں ہم جیسے لوگ رہ رہے ہیں اور ہم جیسے کام کررہے ہیں، ہم زادوں کی یہ دُنیا نظر تو نہیں آتی لیکن کبھی کبھی اپنا احساس ضرور کراتی ہے۔ ”تمہیں اس کا خیال کیسے آیا؟“ مرشد نے پوچھا ”بس یونہی، مجھے ایسا لگا جیسے جو کچھ میں کررہا ہوں، اسے پہلے بھی کرچکا ہوں۔“ وہ سوچتے ہوئے بولا۔ ”کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے میں خود کو دہرارہا ہوں۔“ مرشد سوچ میں پڑگیا، تادیر…
Read MoreDay: مئی 24، 2024
خالد احمد
کچھ سانس بچ رہے تھے سو وہ سانس بھی لیے وعدہ خلاف تھے ، سو ترے بعد جی لیے
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ بت کدہ نزدیک، کعبہ دور تھا
بت کدہ نزدیک، کعبہ دور تھا میں ادھر ہی رہ گیا مجبور تھا شام ہی سے ہم کہیں جاتے تھے روز مدتوں اپنا یہی دستور تھا وہ کیا جس میں خوشی تھی آپ کی وہ ہوا جو آپ کو منظور تھا کچھ ادب سے رہ گئے نالے ادھر کیا بتائیں عرش کتنی دور تھا جس گھڑی تھا اس کے جلوے کا ظہور عرش کا ہم سنگ کوہ طور تھا اک حسیں کا آ گیا جو تذکرہ دیر تک محفل میں ذکرِ حور تھا وصل کی شب تھی شبِ معراج کیا…
Read Moreمرزا غالب … عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا فکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایا حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے
ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے کرشمے سارے اسے آج ہی دکھانے تھے حقارتیں ہی ملیں ہم کو زنگ آلودہ دلوں میں یوں تو کئی قسم کے خزانے تھے یہ دشت تیل کا پیاسا نہ تھا خدا وندا یہاں تو چار چھ دریا ہمیں بہانے تھے کسی سے کوئی تعلق رہا نہ ہو جیسے کچھ اس طرح سے گزرتے ہوئے زمانے تھے پرندے دور فضاؤں میں کھو گئے علوی اُجاڑ اُجاڑ درختوں پہ آشیانے تھے
Read Moreعادل فرحت
میں نے چاہا تھا ترے درد سے محظوظ رہوںدرد بھی وہ کہ جسے میرؔ نہیں کھینچ سکا
Read More