آفتاب مضطر ۔۔۔ ہر ظلم ترا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں

ہر ظلم ترا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں اے وقت مٹانا مجھے آسان نہیں ہے انساں ہوں کوئی نقشِ کف پا تو نہیں ہوں چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کے ہاتھوں مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں یہ دن تو مجھے ان کے تغافل نے دکھائے میں گردشِ دوراں ترا مارا تو نہیں ہوں ان کے لیے لڑ جاؤں گا، تقدیر! میں تجھ سے حالانکہ کبھی تجھ سے میں اُلجھا تو نہیں ہوں ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’دستک‘‘جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل تھا، ۲۰۰۵ء میں منظر عام پر آیا۔اُن کی شاعری در اصل جدید حسّیت اور عصری حسّیت کا عمدہ امتزاج ہے۔وجدانی کیفیات اور شعوری تجربات و مشاہدات کا حسنِ توازن ہے۔ اِس لیے یہ آج کی حقیقی شاعری ہے جو اُردو غزل کا تاریخی ارتقا بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور لچک دار اِس قدر ہے کہ عصری آشوب سے بھی پہلو تہی نہیں کرتی۔ اسلوبِ بیاں ایسا کہ روایت سے آگہی کلام میں جھلکتی محسوس…

Read More

حنیف فوق ۔۔۔۔ فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی

فضاؤں میں کچھ ایسی کھلبلی تھی کلیجہ تھام کر وحشت چلی تھی کبھی اس کی جوانی منچلی تھی کبھی دنیا بھی سانچے میں ڈھلی تھی یہی آئینہ در آئینہ الفت کبھی عکس‌ِ خفی نقشِ جلی تھی نہ چھوڑا سرد جھونکوں نے وفا کو جو شاخِ درد کی تنہا کلی تھی بگاڑا کس نے ہے طبعِ جہاں کو کبھی یہ رند مشرب بھی ولی تھی محیط ہنگامۂ آفاق پر ہے صدائے درد جو دل میں پلی تھی غنیمت جانئے پھر نیم روشن چراغ راہ سے اپنی گلی تھی برا ہو آگہی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ تزئین راز زیدی

تزئین راز زیدی تزئین راز زیدی کاتعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ تین شعری مجموعے راز داں‘ مضرابِ رگ جاں اور کسک منظر عام پر آچکے ہیں۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’ریزہ ریزہ خط و خال‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔اُن کے ہاں کچھ نہ کچھ اچھوتے موضوعات ضرور ملتے ہیں۔اکثر افسانے کا آغاز مکالمہ نگاری یا پھر کسی نہ کسی شعر سے کرتی ہیں کہ خود اُن کی پہلی پہچان شاعری ہے۔اِسی طرح اُن کے کئی افسانے ایسے ہیں…

Read More