مجید امجد ۔۔۔ اور اَب یہ کہتا ہوں، یہ جرم تو روا رکھتا

اور اَب یہ کہتا ہوں، یہ جرم تو روا رکھتا میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا خیال صبحوں، کرن ساحلوں کی اوٹ سدا میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے میں اپنی سوچ کی بےحرف لو جلا رکھتا ہوا کے سایوں میں، ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا انھی حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا پلٹ پڑا ہوں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ڈاکٹر رشید جہاں

ڈاکٹر رشید جہاں ڈاکٹر رشید جہاں پہلی ترقی پسند خاتون تھیں جو عملی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئیں بل کہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ اِس تحریک کے بانی اراکین میں شامل تھیں۔۱۹۰۵ء میں متحدہ ہندوستان کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔اُن کے والد شیخ عبداللہ علی گڑھ کے معروف ماہر تعلیم اور علی گڑھ کالج برائے خواتین کے بانی تھے۔حکومتِ ہند کی طرف سے تعلیمی خدمات پر انہیں پدم بوشن ایوارڈ بھی دیا گیا۔اُن کی والدہ وحید شاہجہاں بیگم ایک رسالہ ’’خاتون‘‘…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے

دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے عذاب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا میں مطمئن ہوں ،مرا دل تری پناہ میں ہے بکھر چُکا ہے مگر مُسکراکے ملتا ہے وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے وہ اِک مکا ن ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے یہی وہ…

Read More

احمد فراز ۔۔۔ دوست بھی ملتے ہیں، محفل بھی جمی رہتی ہے

دوست بھی ملتے ہیں، محفل بھی جمی رہتی ہے تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے اب کے جانے کا نہیں موسمِ گر یہ شاید مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم؟ کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے کچھ دلوں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب کچھ جزیروں پہ سدا دُھند جمی رہتی ہے تم بھی پاگل ہو کہ اُس شخص پہ مرتے ہو فراز ایک دنیا کی نظر جس پہ جمی رہتی ہے

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ حجاب امتیاز علی

حجاب امتیاز علی حجاب امتیاز علی اُردو ادب کی پہلی فکشن نگار خاتوں ہیں جنہوں نے تحیر آمیزی اور خوف ناکی سے اُردو ادب کے قاری کے چونکایا۔ مزید براں انہوں نے کوشش کی کہ افسانے کی فن کی روح اور تیکنیک پر عمل کیا جائے۔وہ ماحول کو سحر زدہ کر کے قاری کو متجسس کر دیتی تھیں۔اُن کا اسلوب بر جستہ اور مرصع ہوتا تھا۔اُن کے پلاٹ میں رومانیت بھی تھی اور وہ زیادہ تر متمول اور اونچے گھرانوں کے کرداروں کے گرد گھومتا تھا۔ اُ‘ن کے موضوعات میں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ نذر سجاد حیدر

نذر سجاد حیدر نذر سجاد حیدرکا شمار اُردو کی اولین خواتین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد مضامین اور مختصر کہانیوں کے علاوہ اصلاحی و معاشرتی ناول بھی لکھے۔ نذر سجاد حیدر نے بیسویں صدی کے اوائل میں اپنا تخلیقی سفر شروع کیا۔ یہ سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا دور تھا۔ ایک طرف لوگ انگریزی حکومت کے خلاف حصول آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو دوسری طرف ہندوستان کے روایتی معاشرتی ڈھانچے میں زبردست تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔انہوںنے کئی ناول لکھے جن میں اختر النسا، آہ مظلوماں،نجمہ…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے

اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے ہم اِدھر مجبور ہیں اور وہ اُدھر مجبور ہے شب کو چھپ کر آئیے آنا اگر منظور ہے آپ کے گھر سے ہمارا گھر ہی کتنی دور ہے لاکھ منت کی مگر اک بات بھی منہ سے نہ کی آپ کی تصویر بھی کتنی بڑی مغرور ہے اس اندھیری رات میں، اے شیخ! پہچانے گا کون بند ہے مسجد کا در تو مے کدہ کیا دور ہے ایک رشکِ غیر کا صدمہ تو اٹھ سکتا نہیں اور جو فرمائیے سب کچھ…

Read More