خط کا جواب تو نہیں اُس نے دیا مگر کھڑکی پہ جو پڑا تھا وہ پردہ بدل دیا
Read MoreMonth: 2025 مارچ
محسن اسرار
بہت پچھتائے ہم بیمار ہو کر تماشا بن گیا اچھا نہ ہونا
Read Moreلیاقت علی عاصم
نظر میں آسماں کی آگئے ہم ہمیں اتنا نہ اُڑنا چاہیے تھا
Read Moreاقبال کوثر
روز دیوار کے سائے میں تو ہم بیٹھتے ہیں یہ نہ سوچا کبھی دیوار کے پیچھے کیا ہے
Read Moreاقبال کوثر
کوثر جب اِن خداؤں پہ ہم کو یقیں نہیں کیوں منصفوں کے سامنے لائے ہوئے ہیں ہم
Read Moreاقبال کوثر
کیوں خود کو بے شناخت بنائے ہوئے ہیں ہم آ کر یہ کس کے سائے میں سائے ہوئے ہیں ہم
Read Moreاقبال کوثر
کوثر وہ کیا خروشِ تلاطم تھا اس گھڑی لہجے تو شبنموں کے سنائی دیے مجھے
Read Moreاقبال کوثر
وہ مجھ سے لڑ رہے تھے کہ میں ماں سے لڑ پڑا اس نے بھی کس مزاج کے بھائی دیے مجھے
Read Moreخالد احمد ۔۔۔ اک اجاڑ بستی کا اک اداس جادہ تھا
اک اجاڑ بستی کا اک اداس جادہ تھا اور بادیہ پیما ایک مستِ بادہ تھا حسنِ کم نگاہی پر عمر بھر نہ کھل پایا دل کی بند مٹھی میں ایک حرفِ سادہ تھا عمر بھر کے غم لے کے چشم نم اُمڈ آئے وجہ ِ گرم بازاری اک غلام زادہ تھا ہرمحل پہ سایہ تھا کچھ دراز پلکوں کا خواب خواب آنکھوں میں ایک شاہ زادہ تھا بادشاہ کے گھر تک آنچ کس طرح آتی اس بساط پر باقی اب تک اک پیادہ تھا صبر کا علم اب تک سربلند…
Read Moreعبیداللہ علیم
کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا
Read More