احمد جلیل ۔۔۔ چاند ، سورج ، ستارے دیکھتے ہیں

چاند ، سورج ، ستارے دیکھتے ہیں آ کے تم کو وہ سارے دیکھتے ہیں دیکھتے ہیں وہ تم کو بت بن کر جو بھی جلوے تمہارے دیکھتے ہیں تم بھی پڑھ لو نوشتۂ دیوار ہم تو کب سے اشارے دیکھتے ہیں ہر طرف لاشے ، سوختہ خیمے جا بجا غم کے مارے دیکھتے ہیں ہر طرف حسن ہے جلیل اُس کا ہر سو اس کے نظارے دیکھتے ہیں اب بھی قدموں پہ ہم کھڑے ہیں جلیل ہم کو دشمن ہمارے دیکھتے ہیں

Read More

عبدالرئوف زین ۔۔۔ دو غزلیں

کیا خاک خود کو اڑانے کی خاطر وہی روگ دل کے مٹانے کی خاطر رہی ہے مچل کب سے وحشت یوں دل کی نیا شور اندر مچانے کی خاطر مری مسکراہٹ کا کیا پوچھتے ہو یہ ہے زخمِ دل کو چھپانے کی خاطر پلا اپنی آنکھوں سے الفت کی صہبا نہیں آیا پیاسا میں جانے کی خاطر گرا ہوں کبھی کھا کے ٹھوکر اگر تو نہیں آیا کوئی اٹھانے کی خاطر ۔۔۔۔۔۔ حبس موسم میں مرنے لگا ہوں میاں رات گہری سے ڈرنے لگا ہوں میاں زندگی ایسے کیسے کٹے…

Read More

عاصم بخاری ۔۔۔ روزہ

روزہ ۔۔۔۔ بھوکا پیاسا ہی اک نہیں کافی آنکھ بھی روزہ دار ہو تیری کر تلاوت مگر سمجھ کے تو صوم کیا فلسفہ ہے کیا اس کا وہ مخاطب ہے تجھ سے قرآں میں مت سنیں کان کچھ غلط صاحب ہاتھ بھی روزہ دار ہوں تیرے کر ملاوٹ نہ کوئی چیزوں میں مہنگے داموں نہ بیچ ،رب سے ڈر پیدا اشیا کی یوں نہ قلت کر وہ ہے حاضر بھی اور ناظر بھی وہ تو باطن سے بھی ترے واقف رحم کر خود پہ ہوش کر بندے اپنی حد سے…

Read More

نادیہ سحر ۔۔۔ کاغذی کشتیاں بنانے میں

کاغذی کشتیاں بنانے میں کٹ گئی عمر جی لگانے میں اب نہ دل ہے نہ درد باقی ہےتُو ملا بھی تو کس زمانے میں اک بھرم تھا سو وہ بھی ٹوٹ گیا کیا ملا تجھ کو آزمانے میں کچھ تو کردار آپ کا بھی ہے درمیاں فاصلے بڑھانے میں سارے موسم گزر گئے مجھ میںدیر کر دی نا مجھ تک آنے میں صاف دھڑکن سنائی دیتی ہے جیسے دل ہے مرے سرہانے میں نیند یا خواب کے جھروکوں میں میں کہاں ہوں ترے فسانے میں رایگاں کر دی ہم نے…

Read More