بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی ۔۔۔۔ بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی شرم کی بھی ہے کچھ حیا کی بھی بات حیرت کی بھی ہے سوچیں تو زیب دیتا ہے کیا ہمیں بولو چاند آتے نظر ہی رمضاں کا مہ مبارک کا پاس کیا رکھا روزہ داروں کو اس کے پیاروں کو بیچ کے مہنگے داموں اشیا سب عازمِ عمرہ آخری عشرے کچھ تو خوفِ خدا کیا جائے دھوکاخود کو نہ یوں دیا جائے دل کی تسکین کا سنو ساماں اس کے بندوں کے کام آنے میں…
Read MoreMonth: 2025 اگست
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی
جاں کو ہر دکھ کی ہر اک غم کی دوا ملتی ہے جب گلے آ کے مدینے کی ہوا ملتی ہے موسم ایسا کہ گھلی جاتی ہے شبنم دل میں خاک ایسی جسے چھولیں تو شفا ملتی ہے نعت پڑھتے ہوئے سرشار ہوا جاتا ہوں میری نسبت لبِ حسان سے جا ملتی ہے آپ کی مدح کا ہوتا ہے وہاں سے آغاز سرحدِ عقل جہاں عشق سے آ ملتی ہے ہم بھلا کیسے نہ اس ذکر سے وابستہ رہیں یاد سے جن کی ہمیں یادِ خدا ملتی ہے ایک درویش…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں جابر مجھ سے عہد نیا…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں
سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں ڈوب کیوں جاتے ہیں منظر رات میں کس نے لہرائی ہیں زلفیں دور تک کون پھرتا ہے کھلے سر رات میں چاندنی پی کر بہک جاتی ہے رات چاند بن جاتا ہے ساغر رات میں چوم لیتے ہیں کناروں کی حدیں جھوم اٹھتے ہیں سمندر رات میں کھڑکیوں سے جھانکتی ہے روشنی بتیاں جلتی ہیں گھر گھر رات میں رات کا ہم پر بڑا احسان ہے رو لیا کرتے ہیں کھل کر رات میں دل کا پہلو میں گماں ہوتا نہیں آنکھ بن جاتی…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب
آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب آرزو میرے دل کی بر آئے سب کا پورا کرے خدا مطلب کر نہ مجھ کو سبک رقیبوں میں یوں ہنسی میں نہ تو اڑا مطلب رک گئی بات تا زباں آ کر دل کا دل ہی میں رہ گیا مطلب ضد ہی ضد شیخ و برہمن کی تھی ورنہ دونوں کا ایک تھا مطلب میری اک بات میں ہیں سو پہلو اور سب کا جدا جدا مطلب غیر کی اور اس قدر تعریف ہم سمجھتے…
Read Moreشوکت محمود شوکت ۔۔۔ دو غزلیں
کبھی زندگی کی خواہش ، کبھی آرزو اجل کی کبھی راس دشتِ ویراں ، کبھی جستجو محل کی مرے سامنے سے گزرا ، نہ کیا سلام جس نے مرے ہاتھ چومتا تھا ، ابھی بات ہے یہ کل کی وہی کامیاب ٹھہرا ہے جہانِ تاز و تگ میں جو کرے صمیمِ دل سے ، سدا پیروی عمل کی یہ عجیب سانحہ ہے ، وہ مجھے بھلا چکا ہے کبھی رکھتا تھا خبر تک ، جو مرے ہر ایک پل کی نہ ثبات ہے کسی کو ، نہ دوام ہے کسی…
Read Moreعباس ممتاز ۔۔۔ دو غزلیں
اب جو پیروں پہ ہم کھڑے ہوئے ہیں ایک دنیا سے ہم لڑے ہوئے ہیں دیکھ ہم کو کہانیاں نہ سنا ہم اسی شہر میں بڑے ہوئے ہیں خود کو برباد کر لیا ہم نے اپنی ضد پر مگر اڑے ہوئے ہیں کوئی تو ہم کو تھامنے آئے کوئی دیکھے کہ ہم کھڑے ہوئے ہیں ایک سادہ سی بات تھی، لیکن کتنی مشکل میں ہم پڑے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ جدائی کے ستم ڈھانے سے پہلے پلٹ آؤ بکھر جانے سے پہلے خوشی تھی، رنگ تھے، رعنائیاں تھیں تمہارے شہر میں…
Read Moreنجیب احمد
اس دائرۂ روشنی و رنگ سے آگے کیا جانیے کس حال میں بستی کے مکیں ہیں خلفَ دائرةِ الضياءِ والألوانِ،لا ندري ما حالُ أهلِ المكانِ
Read Moreاکرم ناصر ۔۔۔ زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں
زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں ہاتھ تلوار پہ ہیں ہمتیں ہاری نہیں ہیں ہم کہ حالات کے چکر میں ہیں آئے ہوئے لوگ پیشہ ور مانگنے والے تو بھکاری نہیں ہیں ہم پہ یوں مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی ہم ترے کھیت مزارع نہیں، ہاری نہیں ہیں آگے جنگل ہے جہاں شیر ہیں چیتے ہیں میاں لوٹ جائیں وہ یہیں سے جو شکاری نہیں ہیں حکم ربی ہے تو کر دیتے ہیں رخصت ورنہ کون سی بیٹیاں کس باپ کو پیاری نہیں ہیں تیری ہر…
Read Moreمحسن اسرار
میں اُس کے سامنے خاموش بیٹھا رہتا ہوں خبر نہیں یہ منافع ہے یا خسارا ہے
Read More