المدد پُکارتے سانپ کی طرح میں تھا سر زمیں پہ مارتے سانپ کی طرح میں تھا تیغِ عشق نے کیا تن مِرا دو نیم جب الاماں پُکارتے سانپ کی طرح میں تھا عشق جب تھا کر رہا دوسر ا میں آپ سے کینچلی اُتار تے سانپ کی طرح میں تھا جب ہجومِ اشقیا پِل پڑا تھا مجھ پہ آہ ظُلم کو سہارتے سانپ کی طرح میں تھا عارضِ جمال پر جب تلک تھا پہرہ دار زُلف کو سنوارتے سانپ کی طرح میں تھا
Read MoreMonth: 2025 اگست
محمد اشرف کمال ۔۔۔ جو ستارے کبھی آنکھوں سے اٹھائے گئے تھے
جو ستارے کبھی آنکھوں سے اٹھائے گئے تھے لہو روتے ہوئے مٹی میں بجھائے گئے تھے آنکھ میں ٹوٹے ہوئے کانچ کے ٹکڑوں سے ہیں ہائے وہ لوگ جو خوابوں میں بسائے گئے تھے اپنی تکمیل کو پہنچے ہی نہیں ہیں اب تک جانے ہم کونسی مٹی سے بنائے گئے تھے اس قدر خوف تھا باتوں کا ہماری کہ نہ پوچھ ہم زباں کاٹ کے دربار میںلائے گئے تھے اس زمیں پر جو ہمیں بھیجا گیا تھا تو ہم آسمانوں کی زمینوں سے اٹھائے گئے تھے رستہ ہموارانھوں نے ہی…
Read Moreانصر حسن ۔۔۔ کہاں ہوں کون ہوں کیسا ہوں اور کیا ہوں میں
کہاں ہوں کون ہوں کیسا ہوں اور کیا ہوں میں مجھے نہ کوئی بتائے ، یہ جانتا ہوں میں عدو کے ساتھ عداوت نہ چل سکے گی مری مرے عزیز محبت کا دیوتا ہوں میں بْلا کے پاس فرشتے مجھے بٹھاتے ہیں یہ اور بات کہ تھوڑا بہت بْرا ہوں میں کچھ اس لئے بھی ڈراتے ہیں یہ ڈکیت مجھے کہ ہر لْٹی ہوئی بستی کا ہمنوا ہوں میں سلام کر کے تمہاری دراز پلکوں کو تمہاری جھیل سی آنکھوں میں کھو گیا ہوں میں بْروں کے ساتھ بھی اپنے…
Read Moreاحمد جلیل ۔۔۔ انتظار
انتظار ۔۔۔ سہانے موسموں کی راہ تکتے مری آنکھیں بھی اب پتھرا گئی ہیں مری آشاؤں کی کلیوں کے اوپر خزائیں ہی خزائیں چھا گئی ہیں سہانے موسموں کے راستوں میں ابھی تو دور تک پتھر پڑے ہیں ابھی تو دور تک خنجر گڑے ہیں مگر اب بھی ہیں تیری راہ تکتے مری پتھرائی آنکھوں کے جھروکے کبھی تو آئیں گے مجھ کو منانے دلِ ویران کا گلشن کھلانے کبھی تو ختم ہو گی یہ اذیت یہ لمبی انتظارِ یار کی رت۔۔۔!
Read Moreدلشاد احمد ۔۔۔ ہجر
ہجر ۔۔۔ ہجرتوں کے موسم میں چاہتوں کی اَن بَن میں یاد کے دریچوں سے اک ترے تصور کا واہمہ سا ہوتا ہے اور اِسی تصور میں خواب ٹُوت جاتا ہے خواب کے بکھرنے سے خوش گمان لمحوں کا مان ٹُوٹ جاتا ہے اس بھرم کے رکھنے کو زندگی کی پلکوں پر آنسوؤںکی برکھا جب گیت گنگنائے تو صبح ہو ہی جاتی ہے رات کٹ ہی جاتی ہے۔۔۔!
Read Moreکوکی گل ۔۔۔ کڑی سی دھوپ میں تو، دل مرا گھبرا گیا ہے
کڑی سی دھوپ میں تو، دل مرا گھبرا گیا ہے مرے آنچل کا سایا میرے من کو بھا گیا ہے ترے لہجے کے خنجر نے، مرا دل چیر ڈالا یہی اک روگ ہائے! میرے دل کو کھا گیا ہے نجانے کیا تھا اس کے دل میں جو بولا نہیں پر وہ باتیں کرتے کرتے ایک دم شرما گیا ہے سلامی دے رہے ہیں پھول پودے آج گل کو کوئی نقشہ بہاروں کا، انہیں دکھلا گیا ہے
Read Moreاصغر علی بلوچ ۔۔۔ یوں تو ہنستے ہنساتے رہتے ہیں
یوں تو ہنستے ہنساتے رہتے ہیں زخم دل کے چھپاتے رہتے ہیں یہ ہے دنیا سدا رہے گی یونہی لوگ یاں آتے جاتے رہتے ہیں دوست ہوتے تھے جو کبھی اپنے آج کل منہ چھپاتے رہتے ہیں وقت ہوتا ہے ہم نہیں ہوتے وقت ایسے بھی آتے رہتے ہیں ریت اندر کی سمت گرتی ہے ہم جو طوفاں اٹھاتے رہتے ہیں تو سنے یا نہیں سنے مرے دوست ہم ترے گیت گاتے رہتے ہیں اس قدر آگ ہے یہاں اصغر اپنا دامن بچاتے رہتے ہیں
Read Moreمہر علی ۔۔۔ صبح کی پہلی کرن
صبح کی پہلی کرن ۔۔۔ صبح کی پہلی کرن۔۔۔ شام اتر ی آسماں کی سیڑھیوں سے تو تری یاد آئی ہے صبح کی پہلی کرن۔۔۔ دیکھ میری ذات کے تاریک بن میں کس قدر تنہائی ہے صبح کی پہلی کرن۔۔۔ باغِ نادیدہ سے یوں گم نامیوں کے پھول چننا چھوڑ دے گیلی گیلی سبز سی اس گھاس پر یوں ٹہلنا چھوڑ دے رات کا در توڑ دے صبح کی پہلی کرن۔۔۔ جلدی جلدی آسماں کی سیڑھیاں نیچے اتر اور میری ذات کے تاریک بن کی سیر کر ڈھونڈ اس میں…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ کمال کیسے، ہنر کیا سے کیا دکھاتی ہے
کمال کیسے، ہنر کیا سے کیا دکھاتی ہے غزل دماغ کو بھی دل بنا دکھاتی ہے لہو میں جاگ اٹھے جب چراغِ عشق کی لَو شبوں میں آپ ہوا راستہ دکھاتی ہے زمانوں بعد جو ہونا ہو، کوئی موجِ خیال سب اُس کے عکس نگاہوں میں لا دکھاتی ہے کسی نے میری بصارت پہ کیا فسوں پھونکا کہ آئنے میں کوئی دوسرا دکھاتی ہے میں ایسی دانشِ مجہول کا نہیں قائل جو عشق و جنگ میں سب کچھ رَوا دکھاتی ہے نگاہ جب بھی اٹھاتا ہوں آسماں کی طرف کوئی…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نیلما ناہید درانی
اپنے محبوب کو جب رب نے پکارا ہوگا عرش کو مل کے فرشتوں نے سنوارا ہوگا آمنہ دیکھ کے مکھڑا یہی کہتی ہونگی رب نے اس چاند کو جنت سے اتارا ہوگا عرش کی آخری منزل پہ جو پہنچے ہوں گے مرے آقا نے بھی لبیک پکارا ہوگا ان کے آنے کی خبر عرش پہ پھیلی ہوگی سارے نبیوں نے بھی پھر عرش سنوارا ہوگا وہ جو رحمت ہیں جہانوں کے لیے آئے ہیں مرحبا، مرحبا ہر ذرہ پکارا ہوگا روز محشر وہ شفاعت کے لیے آئیں گے ہر گنہگار…
Read More