افتخار حیدر ۔۔۔ گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت

گو لاکھ چھپاتے رہے مکار حقیقت شبیر نے لکھ دی سرِ دیوار حقیقت اکبر کی اذاں ،اصغرِ بے شیر کی مسکان اور قاسمِ ذی جاہ کی للکار حقیقت گو شام کی آندھی نے اسے گھیرا ہے لیکن نیزے پہ نظر آتی ہے ضوبار حقیقت ہر دور میں فتووں کے غلاف اس پہ چڑھے ہیں تاریخ بتاتی رہی ہر بار حقیقت سجاد نے جھٹلایا سرِ تخت عدو کو زینب نے بتائی سرِ دربارِ حقیقت

Read More

سلام بحضور امامِ عالی مقام ،حسین علیہ اسلام ۔۔۔ خالد معین

سلام بحضور امامِ عالی مقام ،حسین علیہ اسلام عالی نسب ہیں صاحب ِ کردار ہیں حسین تیرہ شبی میں صبح کے آثار ہیں حسین ہے کر بلا سبھی کے لیے درسِ آگہی ہر انقلابِ وقت کےسردار ہیں حسین حُر کے نصیب جاگے ،پلٹ آیا شاہ تک اب اُس کی رفعتوں کے نگہ دار ہیں حسین یہ راستہ فنا کا نہیں ہے ،بقا کا ہے ساری صعبتوں سے خبردار ہیں حسین خالد معین اپنا تو ایمان ہے یہی حق آشنا ہیں ،حق کے علم دار ہیں حسین

Read More

قتیل شفائی

برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی مدینے کے سفر کا بس اتنا سا اثاثہ ہے قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے

Read More

افتخار عارف ۔۔۔ شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے

شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہے فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے زمیں کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسینؑ کا ہے سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا ہے کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی ہے کہ اب تمام عالمِ خیر و خبر حسینؑ کا ہے محبتوں…

Read More

سلامیہ ۔۔۔ پرویز ساحر

سلامیہ کرے نہ کیوں زمانہ احترام ‘ یا حُسَین ! بَلنـــد تر ہــے آپ کا مقام ‘ یا حُسَین ! کب اَصغر و سکینہ کے لبوں تکــ آ سکا فرات رہ گیا ہے تَشنہ کام ‘ یا حُسَین ! اُنھی دِنوں میں عام قتل و خُوں کِیا گیا کہ جن دِنوں میں جنگ ہے حرام ‘ یا حُسَین  ! یہ آپ کے کلامِ خُوش اثر کا ہے کمال کہ حُر بھی آپ کا ہُوا غُلام ‘ یا حُسَین ! تمام تَشنگاں  نے جام نوش کر لیے کہ جام بھی شہادتوں…

Read More

سلام ۔۔۔ عرفان صدیقی

سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقشِ ظفر تھا لوحِ ازل پر لکھا ہوا تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا صحرا کو شادکام کیا اس کی موج نے تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا تابندہ ہے رگوں میں لہو روشنائی سے دنیا کے نام نامۂ سرورؑ لکھا ہوا مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمیں پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں کس نے بدل دیا ہے مقدر لکھا ہوا پانی پہ کس کے دستِ بریدہ کی مہر ہے کس کیلئے ہے چشمۂ کوثر…

Read More

سلام بحضور شہدائے کربلا ۔۔۔ شین زاد

سلام بحضور شہدائے کربلا . میں یوں تو پڑھتا ہوں ہر روز بار بار سلام کرم حُسین کا ہو تو کہوں ہزار سلام . ہر ایک اشک میں آتا ہوا سلام اُن پر سلام اُن پہ سلام اور بے شمار سلام . برستی آنکھ پہ اصغر کے خشک ہونٹوں پر میں بھیجتا ہوں لب ِ خشک اشکبار سلام . ہزار کو تو جہنم رسید تو نے کیا سلام شاہ کی تلوار ذُولفقار سلام . سلام آپ کے جانے پہ یا حُسین مگر بہن کہے تو کہے کیسے دل فگار سلام…

Read More

سلام ۔۔۔ توقیر تقی

سلام ۔۔ زیارت گاہِ چشم و دل بنا ہے شہرِ غم اپنا یہیں ہے ایک مشک اپنی یہیں ہے اک علم اپنا اِسی موسم میں سجتے ہیں عزا خانے دل و جاں میں انھی آنکھوں میں لیتی ہے شبِ گریہ جنم اپنا بس اک انکارِ جادہ ہے حسینی فکر لوگوں کا بس اک چوکھٹ پہ ہوتا ہے سرِ تسلیم خم اپنا تصدّق بر غمِ شبّیرؑ ہو کے بھی سلامت ہیں زمیں اپنی، زماں اپنے، وجود اپنا، عدم اپنا حبیب ابنِ مظاہر ہوں کہ حُر ہوں سب برابر ہیں مودّت دل…

Read More

نذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام !   ۔۔۔ رحمان فارس

نذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام ! تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حُسین کا ہے ؟ فُرات چھیننے والو ! خُدا حُسَین کا ہے !!! کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو ثباتِ رسمِ عزا مُعجزہ حُسَین کا ہے ازل سے تا بہ ابد نُور کے نشاں دو ہیں اک آفتاب ہے، اک نقشِ پا حُسَین کا ہے جہاں بھی ذکر ھو، اشکوں کے گُل برستے ھیں یہ احترام نبی کا ہے یا حُسَین کا ہے ذراسا غور سے دیکھو اُفق کی سُرخی…

Read More

سلام ۔۔۔ منیر سیفی

کتنی صدیاں بِیت گئی ہیں گِریہ بند نہیں ہوتا پانی بند تو ہو سکتا ہے، دریا بند نہیں ہوتا اندھے زعم میں آندھی شاید یہ سچائی بھُول گئی چند مسافر کم ہونے سے رستا بند نہیں ہوتا موت اور سائل دستک کی خفّت سے بچ بھی سکتے ہیں اِک گھر ایسا ہے جس کا دروازہ بند نہیں ہوتا جب تک پیروکار نبی کے آنا بند نہیں ہوتے حق کی خاطر جاں دینے کا رستا بند نہیں ہوتا کیا کیا ظُلم نہیں ہوتے اب، لیکن میں بھی دیکھوں گا ایک حسین…

Read More