” محرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے” محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! یہی تقدیرِ یزدان تھی یہی سرِ مشئیت تھا مدینے اور مکے میں بپا شورِ قیامت تھا یہی فدیہ برائے بخششِ افرادِ ملت تھا شہادت کربلا والوں کی کیا تھی‘ رمزِ قدرت تھا محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! مدینے سے گئے وہ کربلا کی قتل گاہوں میں وہ خونیں قتل گاہیں آج تک فریاد کرتی ہیں حسینی قافلہ صحرا کی جن راہوں سے گزرا تھا وہ راہیں آج بھی اس قافلے کو…
Read MoreDay: جولائی 4، 2026
توقیر عباس ۔۔۔ ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ
ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﻭ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﻭ ﻣﺤﺘﺸﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺮﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﺗﺮﺍ ﻋﻠﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺳﺒﮭﯽ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺪﺭِ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺍﯾﮏ ﻏﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺟﮭﯿﻞ ﺑﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﺪﮦٔ ﻧﻢ ﭘﺮ ﺗﺮﺍ ﮐﺮﻡ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺍﻣﮉ ﭘﮍﯼ ﻣﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﺒﺢِﺑﮩﺸﺖ ﮐﮧ ﺩﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﻣﺮﮮ ﺭﺥ ﺳﮯ ﻏﺒﺎﺭِ ﻏﻢ ترا ﻏﻢ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﮩﺮ ﭘﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﮞ…
Read Moreسلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام ۔۔۔۔ شاہد ذکی
سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام مہتابِ محرم کی قسم کم نہيں ہوتا صدياں ہوئيں مولا ترا غم کم نہيں ہوتا اس اجڑے ہوۓ گھر کی سخاوت نہيں رکتی وہ ہوں کہ نہ ہوں،ان کا کرم،کم نہيں ہوتا ديکھو سرِ نيزہ کہ قدِ اہلِ صداقت سر ہو بھی اگر جاۓ قلم، کم نہيں ہوتا يوں ہے کہ سلگتے ہيں وہ خيمے مرے اندر يوں ہے کہ مری آنکھ ميں نم ،کم نہيں ہوتا اس بات پہ کٹتی ہيں چراغوں کی زبانيں کيوں تذکرۂ شامِ الم ، کم نہيں ہوتا…
Read Moreاختر عثمان ۔۔۔ اشک آباد ” کے ایک طویل مرثیے سے اقتباسات
(3) مطلعِ دوم جب دشتِ کربلا میں دہم کی سحر ہوئی شرقی ورق پہ سطرِ خفی مشتہر ہوئی شمشیرِ سُرمہ سا سپرِ مہ کے سَر ہوئی گویا کہ درپئے شہِ جنّ و بشر ہوئی انصار اٹھ کھڑے ہوئے فرضِ نماز کو دیکھا تیمّمِ شہِ والا حجاز کو صیقل کچھ اور ہو گئے آئینہ رو تمام مٹّی سے تھے اَٹے ہوئے شب رشک مُو تمام اُن کے طواف میں تھے ادھر مشک و بُو تمام باہم جُھکے تھے سجدے میں فرق و گُلو تمام تسبیح میں چُنے ہوئے دارالسّلام کے سب…
Read Moreراشد عارف
علی کے لعل ، محمد کے چین زندہ باد سلام تجھ پہ شہِ مشرقین زندہ باد یزید آتا رہے گا ہر اک زمانے میں زمانہ کہتا رہے گا حسین، زندہ باد
Read Moreراحت اندوری
تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھا مجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھا
Read Moreادا جعفری
کوئی طائر ادھر نہیں آتا کیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے
یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے جو کہنا ہے، پہلے کیوں نہ پرکھا جائے مان بھی لیں، ممکن ہے، قدم اپنے ہی غلط ہوں دُور نکل آئے ہیں بہت، اب لوٹا جائے کھوج میں شاید شرط یہی، بار آور ٹھہرے اور ذرا گہرے پانی میں، اُترا جائے دریا میں کھُر جائے گھڑا کھُر جانے والا ٹھہرا ہو جو عہد وہ عہد نہ توڑا جائے مژدۂ عید سنانے والا چاند، ہمیشہ بعد برس کے، پھر چاہت سے دیکھا جائے
Read Moreصبا اکبر آبادی
ہم عاشقانِ آلِ محمد ہیں اے صبا زندہ رہیں گے نام ہمارے فنا کے بعد
Read Moreصبا اکبر آبادی
جان دیں گے ہم تو پڑھ پڑھ کے درود موت چاہے جتنی ہیبت ناک ہو
Read More