خدا ہے اور کہیں ناخدا ہے اور کہیں
سفر ہے اور کہیں راستہ ہے اور کہیں
نگاہ ہے کہ مسلسل بھٹکتی پھرتی ہے
چراغ اور کہیں آئنہ ہے اور کہیں
قریب آئیں تو سانسیں اُکھڑنے لگتی ہیں
درخت اور کہیں ہیں، ہَوا ہے اور کہیں
بہت تضاد ہے جنّت میں اور جہنّم میں
عدن ہے اور کہیں، نینوا ہے اور کہیں
مِرے وجود میں شامل ہے روشنی جس کی
مِرے گمان سے کچھ ماورا ہے اور کہیں
اِسی نواح میں موجود تھا کہیں وہ بھی
کئی دنوں سے مگر کھو گیا ہے اور کہیں
یہ کون اُس کو بُلاتا ہے میرے لہجے میں
مِرے سِوا بھی کوئی خوش نوا ہے اور کہیں
جو کائنات کو اِک واہمہ سمجھتا ہے
اُسے یہ کون بتائے خلا ہے اور کہیں
نگر میں بند ہیں عشوہ طرازیاں ساجدؔ
چمن ہے اور کہیں اور صبا ہے اور کہیں
