نہیں انسان کے کوئی برابر
ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر
کوئی آئے جواں ایسا دِلاور
بچا لے آدمیت کو جو آ کر
جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا
کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر
عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے
کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر
لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے
نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر
طلب میری کرم کی بھیک ہر پل
درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر
اُبھر کر جا لگا آخر کنارے
تھا جو بھی بحرِ الفت کا شناور
بَلا کا آفریں آشفتہ سر ہے
اگرچہ لوگ کہتے ہیں سخن وَر
Related posts
-
غلام حسین ساجد ۔۔۔ مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے
مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے صبح بھی آئینہ میری، رات بھی آئینہ... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا
جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا نہیں کہ کوئی کہیں سے، کوئی کہیں سے... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام
نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام وہ کوئی خواب تھا جس کو...
