غلام حسین ساجد ۔۔۔   خاک کی کیمیا

خاک کی کیمیا

آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے
زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے قضیے سے کیا
مجھے تو زمیں پر بدلتے ہوئے موسموں سے غرض ہے
درختوں کے کٹنے کا غم ہے
ہوا گرم ہونے لگی ہے کبھی آگ کے دائرے کھینچتی ہے
کبھی ریت کی چادریں تانتی ہے
وہ ننھے پرندے جو اپنے لڑکپن میں دیکھے تھے،معدوم ہیں
شہر تو پھیلتے جا رہے ہیں مگر سانس لینے کا رقبہ سمٹنے لگا ہے
ندّیاں سوکھتی جا رہی ہیں
سمندر بپھر نے لگے ہیں کہ وہ صاف پانی کے بھوکے ہیں
پربتوں کے سبھی سلسلے تھرتھرانے پہ آمادہ ہیں
اُن کی کیلیں اُکھڑنے کو ہیں
اور مرکز بدلنے لگے ہیں
راکھ ہونے لگی برف کی چھتریاں
ٹُوٹنے اور جُڑنے لگے آئنے
اور گرنے لگی اُن کی یخ کرچیاں اپنے اطراف میں

میں کوئی باغباں تو نہیں ہوں مگر جانتا ہوں
یہی وقت ہے خاک کی تیز ہوتی ہوئی نبض پر ہونٹ رکھ دیجیے
خاک کو سبز پیڑوں سے ڈھک دیجیے
دھوپ اور دُھند کو راستہ دیجیے
بارشوں کے لیے گیت گایا کریں
آسماں جاگتا ہو یا سویا ہوا ہو
فقط اپنے بارے میں سوچا کریں

ہم زمیں زاد ہیں
اور زمیں زاد کا ایک ہی فرض ہے
خاک کی کیمیا کی حفاظت کرے
کائناتی تموّج کی اس لہر میں
اہنے فطری تسلسل کو جاری رکھے
جو کسی بھی تعلق کی بنیاد ہے۔

Related posts

Leave a Comment