انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read MoreCategory: پ
سیماب اکبر آبادی
پریشاں ہونے والوں کو سکوں کچھ مل بھی جاتا ہے پریشاں کرنے والوں کی پریشانی نہیں جاتی
Read Moreشاہین عباس
پانی پہ مذاق بن گئے ہم کشتی میں نہ تھی جگہ ہماری
Read Moreظفر اقبال
پہلے میں مشکل میں تھا اس بے مروت کے طفیل اور اب میرے سبب سے سارا گھر مشکل میں ہے
Read Moreظفر اقبال
پیاس رکھتی ہے تازہ دم مجھ کو دھوپ میں اور لہلہاتا ہوں
Read Moreظفر اقبال
پسِ آواز بھی اک حشر برپا ہے ، اگر دیکھیں وگرنہ آپ کی تو دوڑ ہے مفہوم کی حد تک
Read Moreسعادت یار خان رنگین
پھر نئے سر سے یہ جی میں ہے کہ دل کو ڈھونڈیے خاک کوچے کی ترے مدت ہوئی چھانے ہوئے
Read Moreظفر اقبال
پناہ چاہتا ہوں اور ظلم توڑتے ہیں زمیں سمجھتا ہوں اور آسماں نکلتا ہے
Read Moreگلزار
پھول نے ٹہنی سے اڑنے کی کوشش کی اک تتلی کا دل رکھنے کی کوشش کی
Read Moreظفر اقبال
پناہ چاہتا ہوں اور ظلم توڑتے ہیں زمیں سمجھتا ہوں اور آسماں نکلتا ہے
Read More