پوچھا جو میں نے میرِ شبستاں کسے بتاؤں آواز ہر طرف سے ہی آئی مجھے! مجھے!
Read MoreCategory: پ
خورشید رضوی
پھول کھلنے کی کوشش سے اکتا گئے آنکھ بھر کر انھیں دیکھتا کون ہے
Read Moreاحمد مشتاق
پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا وہی گھر ہے وہی قصہ ہمارا
Read Moreشاہین عباس
پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا
Read Moreشہزاد عادل
پرانے دوست کہیں بیٹھتے ہیں جب مل کر حدیثِ دل کا بیاں ساری رات چلتا ہے تمہارے شہر کی مسجد نہیں کہ بند ملے یہ میکدہ ہے میاں ساری رات چلتا ہے
Read Moreقابل اجمیری
پھر کوئی کم بخت کشتی نذرِ طوفاں ہو گئی ورنہ ساحل پر اُداسی اس قدر ہوتی نہیں
Read Moreنظر امروہوی
پھونک دیتے زمانے کو، جلوے تِرے وہ تو کہیے کہ ہم درمیاں آگئے
Read Moreعرش ملسیانی
پوچھ اگلے برس میں کیا ہوگا مجھ سے پچھلے برس کی بات نہ کر
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read More