اللہ کے ہی اسم سے آغاز کریں اکرام و عنایات کا در باز کریں وہ ذات ازل سے ہے جو رحمان و کریم اس کے ہی کرم سے سُخن اعجاز کریں حق ہم سرائی کا ادا کیسے ہو عاجز کو یہ توفیق عطا کیسے ہو ہم وصف محمدؐ کے نہیں گن سکتے محمود کی توصیف و ثنا کیسے ہو ٹھہرے ہیں ولّی قبیلۂ ارباب سُخن کہنا ہے وہی محرم آداب سخن دَر تازہ مضامیں کا نہیں بند کبھی تا روزِ قیامت ہے کُھلا باب سُخن کہہ دو دل و جان…
Read MoreCategory: متفرقات
خاور اعجاز ۔۔۔ ہائیکو
سورج اور جاپان بالکل ایسے ہیں جیسے ہم اور پاکستان اک سا فکر و فن میرؔ و غالبؔ سے شاعر باشوؔ اور بوسنؔ میرے گھر کی شان دروازوں کی آنکھیں ہیں دیواروں کے کان دل موسم بدلے وہ بھی اگر میری ہی طرح فون کی سم بدلے باہر دھول ہی دھول آنگن میں لیکن مہکیں چنبیلی کے پھول
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ ماہیے
اپنوں میں نہیں دیکھا تعبیر تو کیا ، اُس کو سپنوں میں نہیں دیکھا ……… بھرپور جوانی ہے جاناں کا سراپا بھی دلچسپ کہانی ہے ……… برہم ہوں زمانے سے روکا ہے ہمیں اس نے کیوں ملنے ملانے سے ……… دل توڑ گیا کوئی آتے ہوئے جب ، اپنا رخ موڑ گیا کوئی جس دن سے وہ روٹھا ہے دل جڑ ہی نہیں پایا کچھ ایسے یہ ٹوٹا ہے
Read Moreحمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔۔ واجد امیر
کیسے مرے محدود سے وجدان میں آئے کیسے وہ بھلا عقل کے جُزدان میں آئے بے شک نہ کبھی وہ مری پہچان میں آئے کچھ عکس کبھی دیدۂ حیران میں آئے انسان اگر سب ترا انکار بھی کردیں کچھ فرق نہ اللہ تری شان میں آئے تشکیک کا دھبہ نہ لگے دل کے وَرق پر کیوں نقص زرا سا مرے ایمان میں آئے اِک خوف رگوں میں جو اُتارے ہے تکاثر اِک کیف الگ سورۂ رحمٰن میں آئے دیتا ہے تسلّی کوئی ان دیکھا مسیحا وسواس اگر کچھ دلِ نادان…
Read Moreمحمد نصیر زندہ ۔۔۔ رباعیات
دستار سے اوجِ عرفاں کیوں نہ ہوا سر عیب و ہنر کا عریاں کیوں نہ ہوا واعظ کی نادانی پہ رحم آتا ہے مسلم تو ہوا پر انساں کیوں نہ ہوا آوارہ خیال خواب داں میں اتر آئے نظارے پھسل کے سائباں میں اتر آئے وہ یاد کے رخسار پہ بوسے کا پھول خوشبو کے سبھی رنگ گماں میں اتر آئے قلزم کا سفیر آبلہ پا نکلا دریا بھی آرزو کا پیاسا نکلا آئینۂ رنگ میں در آئی تصویر افسانہ حقیقت کا تماشا نکلا اندیشۂ تعبیر سے ڈر جاتے ہیں…
Read Moreمحمد ارشاد ۔۔۔۔ رباعیات
بہتی پوشاک بہتی چھوڑے گی کیا یا اپنی طرف لپک کے موڑے گی کیا قابض ہیں گھاٹ پر اُٹھائی گیرے ننگی دھوئے گی کیا نچوڑے گی کیا اے زاہدِ گوشہ گیرہاں اے مزدور اللہ سے لو اور اس کے بندوں سے نفور کیا مُزدِ عبادات یہی ہے کہ ملے دنیا میں پری وگرنہ جنت میں حور اے تُو کہ تری معاش ہے طُرفہِ معاش گُم ڈھیر میں بھُس کے ایک نخمِ خشخاش مت ڈھونڈ خدا کو لامکانی ہے خدا گُم تُو ہے خدا نہیں ہے کر خود کو تلاش ہوتی…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات
کہہ دو دل و جاں سے کہ احد ہے اللہ محتاج کہاں ہے کہ صمد ہے اللہ اس کی احدیت پہ گواہی دیکھیں والد ہے کسی کا نہ ولد ہے اللہ ۔۔۔۔۔ دل سے نہ کسی شخص کے جُوفہ نکلا یہ ایک نیا اور شگوفہ نکلا ظاہر میں دکھائی دیا مگر لیکن اندر سے ہر اک شخص ہی کوفہ نکلا ۔۔۔۔۔۔ لب مدحتِ رحمن کرے مشکل ہے دشواریاں آسان کرے مشکل ہے کس طور سے جانے کوئی قاتل کا دوام اندازہ یہ انسان کرے مشکل ہے ۔۔۔۔ مت بھاگ یونہی…
Read Moreقاضی حبیب الرحمٰن ۔۔۔ حمدیہ قصیدہ
حمدیہ قصیدہ زوروں پر ہے چشمہء نور اپنا ظرف، اپنا مقدور! شمسِ حقیقت کے ہوتے سارے وہم و گُماں کافور ایک ہَوا کی آہٹ پر ناچ اُٹھا شہرِ مَزمور! کسی خیال کی لذّت میں رہتا ہے غم بھی مَسرور ایک خَلا کی نسبت سے دل ہے خَلوت سے مَعمور جیسے ہے ہر چیز، یہاں اپنے نشّے میں مَخمور سو بھی کم کم کُھلتا ہوں حسبِ استعدادِ ظُہور خود سے چھپتا پھرتا ہوں اپنے اندر اک مَفرور! پردے کا ہے سارا کھیل ورنہ ، میں کیا! کون حضور! اِک دریا کی…
Read Moreقاضی حبیب الرحمن ۔۔۔ رباعیات
رباعیات دریائے مسائل ، تنَہ نا ہا یا ہو سب غرقۂ ساحل ، تنَہ نا ہا یا ہو سنّاٹے کا یہ جشن مبارک ، اِمشب تنہا ہے مرا دل ، تنَہ نا ہا یا ہو ٭ بے قیدِ زمانی و مکانی کوئی دل میں ہے دمکتی راجدھانی کوئی اِمکان و مُحال کے مباحث سے وَرا اے مُطربِ جاں ، رام کہانی کوئی! ٭ کیوں بند ہے راہِ زندگانی ، اَعنی وہ کیا ہوئی طبع کی روانی ، یعنی جب آتشِ اِحساس میں ڈَھل جاتے ہیں لفظ تب کِھلتے ہیں دل…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ ایک آشوبیہ (بارگاہِ خدا میں)
ایک آشوبیہ (بارگاہِ خدا میں) ……… تجھ سے میرے خدا کہوں کیا حالِ دلِ مبتلا کہوں کیا جس حال میں ہوں، تجھے خبر ہے بندہ ہوں میں ترا، کہوں کیامیں ایک حصارِ عقل میں ہوں تو سوچ سے ماورا، کہوں کیا آتی ہے صدا پرندگاں کی دیتی ہے ترا پتا، کہوں کیا میں عجز سرشت، سر بہ خم ہوں ہے عجز مری انا، کہوں کیا تو لامتناہی و دوامی زیبا ہے مجھے فنا، کہوں کیا بے مایہ و کم نظر ہوں لیکن تو جانتا ہے، بھلا کہوں کیا! جیسا ہوں…
Read More