حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ خالد کھوکھر

یہ رنگ و نور، مکین و مکاں تجھی سے ہیںعطا کے چشمے ہیں جتنے یہاں تجھی سے ہیں ہیں تیرے دم سے زمانوں میں رنگ یہ سارےمحبتیں بھی لہو میں رواں تجھی سے ہیں مری جبیں پہ ہے جتنی چمک سجود سے ہےعقیدتوں کے یہ سارے نشاں تجھی سے ہیں ترے وجود سے ہیں سلسلے جہانوں کےوہ تارے جن سے ہیں روشن زماں تجھی سے ہیں یہ نیلے گہرے سمندر، یہ جھیل یہ دریایہ آ بشار یہ آب ِرواں تجھی سے ہیں

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ ہائیکو تراجم(Jane Reichhold)

A spring nap Downstream cherry trees in bud موسمِ گل میں نیند کی چھپکی جیسے موجود ہوں شگوفوں میں لبِ دریا درخت چیری کے Long hard rain Hanging in the willows Tender new leaves سردیوں کی طویل بارش میں پیڑ پر جھولتے ہوئے قطرے تازہ پتّوں کا پیش خیمہ ہیں Ancestors The wild plum blooms again آبأ و اجداد جنگلی آلوچے جیسے پھِر سے کھِل اُٹھیں Moving into the sun The pony takes with him Some mountain shadow سورج میں چلتے گھوڑا لے گیا اپنے ساتھ پربت کا سایہ

Read More

ایمان قیصرانی ۔۔۔ تنہا تھی کل تو مثلِ بہتر حسینیت

تنہا تھی کل تو  مثلِ  بہتّر حُسینیتاور آج صف بہ صف ہوئ لشکر حُسینیت زینب سی شاہزادی کا فخر و غرور بھیمجھ بے ردا کنیز کی چادر حُسینیت صدیاں گواہ ، اور ہے تاریخ مُعترفقائم ہے مثل ِ شجر ِ تناور حُسینیت "کشمیر "اور "ڈل” کے کناروں پہ دیکھئےکیسے کھڑی ہے آج بھی ڈٹ کرحُسینیت محشر تلک رہے گی محمد کے عشق میںلے کر متاع ِ جان نچھاورحُسینیت ہر دور ِجور و جبر میں ظالم کےسامنےصدیوں کی خامشی میں سُخنور حُسینیت ایماں سکون وصبر و قناعت کے ساتھ ساتھکرب و…

Read More

حمد ۔۔۔ افضال احمد انور

ضیائے نجم و مہ و آفتاب کِس کی ہے؟ فضائے نیل و فرات و چناب کِس کی ہے؟ وہ جس کے ذکر سے ہر سو مہک مہک اُٹّھی یہ بُوئے رشکِ عبیر و گلاب کِس کی ہے؟ ہر ایک شے میں ہر اک جا ظہور ہے کِس کا ؟ ورائے دید بھی خوئے حجاب کِس کی ہے؟ ہے نظمِ خشک و ترِ جملہ عالمیں کِس کا ؟ یہ بزمِ کون و مکاں ‘ اے جناب! کِس کی ہے؟ یہ کِس کے قبضۂ قدرت میں ہے نظامِ کاشت؟ سحاب کِس کا…

Read More

حمد ۔۔۔ نسیمِ سحر

نظر مری پسِ اَفلاک ہو تو حمد کہوں کچھ اُس کی ذات کا اِدراک ہو تو حمد کہوں گداز دِل میں ذرا اَور پیدا ہو جائے یہ آنکھ اَور بھی نمناک ہو تو حمد کہوں میں ٹوٹ پھوٹ چکا ہوں،سمیٹ لوں خود کو بحال یہ دلِ صد چاک ہو تو حمد کہوں ابھی تو ہے مری آنکھوں پہ جہل کا پردہ مَیں مُنتظِرہوں کہ یہ چاک ہو تو حمد کہوں زمیں پہ رہ کے مری سوچ کچھ حدود میں ہے کوئی اشارۂ افلاک ہو تو حمد کہوں پُرانے لگتے ہیں…

Read More

عطاء الحق قاسمی ۔۔۔ ناصر زیدی (خاکہ)

ناصر زیدی یہ غالباً ۱۹۵۳ء کی بات ہے جب میں اپنے خاندان کے ہمراہ وزیر آباد سے’’ہجرت‘‘ کر کے لاہور کی سب سے خوب صورت بستی ماڈل ٹائون میں آکر آباد ہوا اور یہاں ماڈل ہائی سکول میں چھٹی جماعت میں داخلہ لیا۔ یہ سکول سی بلاک کے سٹاپ کے سامنے ممتاز صحافی م ش کی کوٹھی میں واقع تھا۔ میری رہایش اے بلاک میں تھی۔ میں دھاری دار پاجامہ اور اسی قسم کی کوئی قمیص پہنے بستہ گلے میں لٹکائے، تختی ہوا میں لہراتے سایہ دار درختوں اور مہکتے…

Read More

علی اصغر عباس ۔۔۔ سلام

سیاہ بخت سے لمحوں کے کیا نصیب ہوئےترے لہو کی لپک سے ضیا نصیب ہوئے مہ و نجوم محرم کے پہلے عشرے کےفنا کی اَور سے نکلے، بقا نصیب ہوئے عجیب تیرگی ظلمت کدے میں پھیلی تھیحریف نور کے سارے خطا نصیب ہوئے ضمیر جاگا تو اس کی پکار پر حُر بھیبتانِ وقت سے چھوٹے، خدا نصیب ہوئے کٹے تھے بازؤےعباس، مشک چھلنی تھیمگر وہ اس پہ بھی خوش تھے، وفا نصیب ہوئے کھلا تھا دشت مگر پھر بھی سانس گھٹتا تھامشامِ جاں سے ترے دم، ہوا نصیب ہوئے کنارِ…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ ہائی کو تراجم

The ants are walking under the ground And the pigeons are flying over the steeple And in between are the people (Elizebeth Madox Roberts) چیونٹیاں چل رہی ہیں زیرِ زمیں اور کبوتر فضائوں میں رقصاں درمیاں اِک ہجوم لوگوں کا ………………… Dusk A lone car going the same way As the river (George Swede) شام کے سرمئی دھندلکے میں ایک ہی سمت میں رواں دونوں بیل گاڑی بھی اور دریا بھی Leaf in my palm its stem extends My life line (Helen Daive) ایک پتّا مِری ہتھیلی پر اس کی…

Read More

سید فخرالدین بَلّے ۔۔۔ حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے

حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الہٰی ! کون مٹا دین کی بقا کیلئے یہ کس نے جامِ شہادت پیا وفا کیلئے یہ کس نے کردیا قربان گھرکا گھر اپنا یہ کس نے جان لُٹا دی تری رضا کیلئے حسین ہی کی ضرورت تھی کربلاکے لئے ہنوز تشنہ تھی روحِ پیامِ ربِ جلیل ہنوز تشنہ و مبہم تھی زندگی کی دلیل ہنوز تشنۂ تکمیل تھا مذاق ِ خلیل حصولِ مقصدِ تعلیمِ انبیاء کیلئے حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کیلئے قیامِ فصلِ بہاراں کا کام باقی تھا علاجِ…

Read More

نعتؐ ۔۔۔ نسیمِ سحر

جو اُس مدینۂ جنّت نشاں کو دیکھ لیا تو گویا حاصلِ کون و مکاں کو دیکھ لیا وہ بام و در تھے عجب نور میں نہائے ہوئے ! کہ جیسے سلسلۂ کہکشاں کو دیکھ لیا اب اَور کیا مُجھے کچھ دیکھنے کی خواہش ہو؟ دیارِ نُور کو ، شہرِاماں کو دیکھ لیا کچھ اَور بڑھ گیا احساسِ تنگیِ داماں جو آپؐ کے کرمِ بے کراں کو دیکھ لیا نہ کر سکا مجھے خائف کبھی کوئی سورج کہ مَیں نے ان کے خنک سائباں کو دیکھ لیا مدینہ دیکھ کے لگتا…

Read More