ممتاز راشد لاہوری ۔۔۔ اردو ماہیے

جذبات کا دریا ہے وصل کے موسم میں __ ہمدم نے پکارا ہے ……………… برسات کے میلے میں مل کر ہم دونوں __ بھیگیں کے اکیلے میں ……………… جینا بھی دُوبھر ہو خدشہ رہتا ہے __ دوری نہ مقدّر ہو ……………… حالات کی گھاتیں ہیں کچھ بھی تو بس میں نہیں __ تقدیر کی باتیں ہیں ……………… ایذائیں سہتے ہیں اُن کے تغافل پر __ہم کُڑھتے رہتے ہیں ……………… کچھ کھاتے کھولے ہیں صبر ہی کرتے رہے __تنگ آکر بولے ہیں ……………… وحشت کا عالم ہے اخراجات بہت__ تنخواہ بہت…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

میں کہ تھا تشکیک کی بے نور دلدل کا اسیر نورِ ایماں سے مزین ہو گیا،بدر منیر غربتِ کم مائیگی سے ہوگئی میری نجات مجھ کو عرفانِ خدا نے کر دیا ثروت نظیر ہو گیا ارفع و اعلیٰ صاحبِ تقویٰ جو ہے وہ فقیرِ بے نوا ہو یا شہنشاہِ شہیر جس نے کشکولِ گدائی تیرے آگے رکھ دیا ظاہروباطن کی دولت سے ہوا بے حد امیر جس نے صدقِ دل سے مانا تو ہے شہ رگ سے قریب ہو گیا تیرے قریں،وہ ہو گیا تیرا نصیر وہ سر افرازِ جہاں…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ گیت

چاند تجھے کیسا لگتا ہے اپنے سندر چہرے جیسا یا مجھ سا تنہا لگتا ہے چاند تجھے کیسا لگتا ہے رنگوں کرنوں کا دلدادا رات کی رانی کا شہزادہ سج دھج میں پیارا لگتا ہے چاند تجھے کیسا لگتا ہے چرغ پہ گھومے مارا مارا جانے کون سی بازی ہارا اندر سے ٹوٹا لگتا ہے چاند تجھے کیسا لگتا ہے دن میں سوئے رات کو جاگے سوتن جانے جو تن لا گے کیوں الجھا الجھا لگتا ہے چاند تجھے کیسا لگتا ہے غم کوئی اس نے پالا ہو گا کسی…

Read More

امجد اسلام امجد ۔۔۔ سلام مرا

سلام مرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دشت میں شام ہوتی جاتی تھی ریت میں بُجھ رہی تھیں وہ آنکھیں جن کو اُنؐ کے لبوں نے چوما تھا (جن کی خاطر بنے یہ ارض و سما) پاس ہی جل رہے تھے وہ خیمے جن میں خود روشنی کا ڈیرا تھا ہر طرف تھے وہ زخم زخم بدن جن میں ہر ایک تھا گہرکی  مثال قیمتی، بے مثال ، پاکیزہ دیکھ کر بے امان تیروں میں ایک چھلنی ، فگار، مشکیزہ رک رہا تھا فرات کا پانی وقت اُلجھن میں تھا ، کدھر جائے پھیلتے…

Read More

مامون ایمن ۔۔۔ تعارفِ مامون ایمن بہ قلم خود (رباعیات)

تعارفِ مامون ایمن بہ قلم خود (رباعیات) خود دیس کی ہا و ہُو سے بچھڑا ہوں میں پردیس کی ہا و ہُو میں تنہا ہوں میں مامون نے ایمن سے کہا ہے ہر پَل ہر سانس پہ اک کرب کا چرچا ہوں میں ۔۔ یہ کرب، مری ذات کا سودا بھی ہے سودا ہے کہ شیشہ ہے، جو بکھرا بھی ہے آئینہ نے پوچھا ہے یہ ہنس کر اکثر ’’ تُو خود کو کسی حال میں سمجھا بھی ہے؟‘‘ ۔۔۔ مَیں خود کو سمجھ لیتا، تو اچھا ہوتا منزل کے…

Read More

حلقہ اربابِ خیال ___ پہلا باقاعدہ اجلاس ۔۔۔ (12 فروری 2022)

پہلا باقاعدہ اجلاس(12 فروری 2022) حلقہ اربابِ خیال کاپہلاباقاعدہ اجلاس 12 فروری 2022شام سات بجے 252۔ جینیپر بلاک، بحریہ ٹاؤن ،لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت معروف شاعر ڈاکٹر اختر شمار نے کی۔ نشست کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ صدرِ محفل جناب اختر شمار نے نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیش کی۔ جنرل سیکرٹری نوید صادق نے مہمانوں کی حلقہ کے اجلاس میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور حلقہ کے قیام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر یونس…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

پیکرِ جاں میں نور تیرا ہے ہر نفس میں ظہور تیرا ہے پتہ پتہ تری گواہی دے ڈالی ڈالی پہ بور تیرا ہے تو ہر اک جا بھی ہے مگر مسکن ماورائے شعور تیرا ہے گفتگو سے مہک نہ کیوں آئے ذکر ‘بین السطور تیرا ہے لطف‘  عصیاں سرشت بندوں پر پھر بھی ربِ غفور! تیرا ہے تجھ سے کچھ بھی نہیں ہے پوشیدہ سب غیاب و حضور تیرا ہے آنکھ یک دم کھلی ہے پچھلے پہر یہ بُلاوا ضرور تیرا ہے حرف و صوت و ثنائے سرور میں سارا…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ شہاب صفدر

حُسن کی راہگزر  اِلااللہ خیر کا زادِ سفر اِلااللہ گوشِ ہستی میں فسوں پھونکتا ہے ہاتفِ شام و سحر اِلااللہ یورشِ وہم و گماں لامعبود پُریقینوں کی سپر اِلااللہ ناخدا خود کو سمجھتا ہے خدا اُٹھ کے کہتے ہیں بھنور اِلااللہ زیست دہراتی ہے حق ہو حق ہو موت دیتی ہے خبر اِلااللہ کچھ نہیں کچھ نہیں جو کچھ ہے یہاں سب شرف سارے ہنر اِلااللہ بے اماں دھوپ کے صحرا میں بھی سایہ زن ایک شجر اِلااللہ ظلم و ظلمت کے مددگار اُدھر ہم نَفسَ ایک اِدھر اِلااللہ سرِ…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ ریاض مجید

بنا ہے دامنِ ہر حرف‘ کہکشانِ حمد زمینِ لفظ پہ اُترا ہے آسمانِ حمد تمام خلق نے مل کر جو آج تک کی ہے ہے ناتمام سی اک سعی در گمانِ حمد ہیں خاک بستہ مرے لفظ‘ گنگ اور حیران سفر میں نُور کی رفتار سے ہے شانِ حمد ندامتوں کے اسیرِ خیال! تُو ہی بتا سوائے عجز بیاں کیا ہو ارمغانِ حمد؟ خجالتوں سے بھری زندگی! اشارہ کر دبیز چُپ کے علاوہ ہو کیا زبانِ حمد؟ شہادت اُس کی ربوبیت اور عظمت کی ہر ایک ذرّۂ تخلیق ہے نشانِ…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

ہے سب کائناتوں کا خالق خدا نہیں اس سے بڑھ کر کوئی بھی بڑا وہی دل کہ جس میں وہ گھر کر گیا وہی گھر۔۔۔وہی دل۔۔ہوا پارسا کوئی جان پرور ہے،بے جان ہے اسی کا وہ مرہون منت ہوا کوئی حدِ امکاں میں ہے یا نہیں نہیں حکمِ کن سے کوئی ماورا یہ پیار و محبت،یہ انس و وفا یہ انسانیت ہے اسی کی عطا اعانت طلب ہے اسے پیار ہے اک اشکِ ندامت ہوا کیمیا کوئی اس کی نیکی کا ہم سر نہیں جو اس کے لیے ہر بدی…

Read More