نسیمِ سحر ۔۔۔ قطعات

عہد سمیٹا ہے جو میری کرچیوں کو کہیں اب توڑ مت دینا مُجھے تم مِرے نزدیک جب آئے ہو اِتنے کہیں اب چھوڑ مت دینا مُجھے تم ! ۔۔۔۔۔۔ انتظاریہ جانِ من ، تیرے انتظار میں مَیں اور کچھ زہرِ ہجر پی لوں گا جیسے مر مر کے جی رہا ہوں مَیں یونہی مر مر کر کے اَور جی لوں گا ۔۔۔۔۔۔ ’’تُم‘‘ دیکھے تو تھے شہکار کئی حسن کے میں نے اِتنا مَیں کسی سے متأثّر نہ ہؤا تھا جو رنگ مہک اُٹّھے ہیں اب میری غزل میں لگتا…

Read More

عقیدت ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

ڈوبے سفینے پار لگائے رسولؐ نے بگڑے تھے جو بھی کام بنائے رسولؐ نے جو کچھ نہ تھے،وہ آپؐ کے در پر غنی ہوئے یہ معجزے دکھائے عطائے رسولؐ نے جو ناتواں تھے،کوئی انہیں پوچھتا نہ تھا ہمت بندھائی ان کی ثنائے رسولؐ نے بے رہروی کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی رستہ دکھایا سیدھا دعائے رسولؐ نے صحت کی دولتوں سے نوازے گئے علیل فیضان کر دیا ہے ردائے رسولؐ نے جو مضمحل تھے،عضو معطل تھے ،ہر طرح ڈھارس بندھائی ان کی شفائے رسولؐ نے کسب معاش کوئی ہو…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔سید ریاض حسین زیدی

خدا ہے جس نے کیا ممکنات کو پیدا ہر ایک چیز ، ظواہر ، ثبات کو پیدا وہ موسموں کو تغیر کا رنگ دیتا ہے وہی ہے جس نے کیا دن کو ،رات کو پیدا یہ شرق و غرب ،شمال و جنوب،ارض و سما فقط اسی نے کیا شش جہات کو پیدا چلائے سانس ہمارے،جو چاہے رک جائیں کیا ہے کیسا حیات و ممات کو پیدا اسی نے خلق کیا ہے بڑے قرینے سے صدف سے موتی کو،لفظوں سے بات کو پیدا حدِ کمال کو پہنچا کمال کن فیکون کیا…

Read More

ممتاز راشد لاہوری ۔۔۔ ماہیے

خوشیوں میں بہتے ہیں جھگڑا کیا کرنا مِل جُل کر رہتے ہیں بے زاری قبول نہیں چھوڑ دیں دنیا کو دل اتنا ملُول نہیں اُلجھیں گے بہاروں سے ہجر کی راتوں میں کھیلیں گے ستاروں سے اُڑتا ہوا بادل ہے رُت ہے گلابوں کی جذبات میں ہلچل ہے دُوری کی فضا کیسی اپنوں سے کیا پردہ دلبر سے حیا کیسی ماحول بنائو جی ہم بھی مہک جائیں کچھ پھول سجائو جی

Read More

حمد ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

کرم کا رحمتوں کا دان رکھنا میں عاصی ہوں مجھے حیران رکھنا تری رحمت فزوں تیرے غضب سے خدایا اس یقیں کا مان رکھنا فقط ’’لاتقنطوا من رحمت اللہ‘‘ مرے کتبے کا یہ عنوان رکھنا ملا کر سرحدِ ارضِ حرم سے فضائے ارضِ پاکستان رکھنا برائے وقتِ آخر یہ دعا ہے سلامت اس گھڑی ایمان رکھنا سنا ہے یہ گھڑی مشکل بہت ہے مراحل نزع کے آسان رکھنا بنیں گے مر کے جب مہمان تیرے تو اپنی شان کے شایان رکھنا سبھی کچھ سونپ کر سرور اسی کو ہمارا کام…

Read More

بدر منیر ۔۔۔ ہاتھ سے پل بھر میں صیدِ بے زباں جاتا رہا

ہاتھ سے پل بھر میں صیدِ بے زباں جاتا رہا سوچتی ہے اہلیہ شوہر کہاں جاتا رہا؟ روزنِ در سے نظر آیا جو مہمانوں کا غول پچھلے دروازے سے چھپ کر میزباں جاتا رہا بن کے دلہن اس حسیں نے جب سے رکھا ہے قدم آشیانے سے مرے امن و اماں جاتا رہا بن بھی سکتا ہے کسی دن تیرے پٹنے کا سبب تو اسی رفتار سے گر اس کے ہاں جاتا رہا گفتگو اس نے سنی جب روز مرہ کے خلاف اہلیہ کو چھوڑ کے اہلِ زباں جاتا رہا…

Read More

بدر منیر ۔۔۔ کس قدر ظلم ِ عیادت ہوا بیمار کے ساتھ

کس قدر ظلم ِ عیادت ہوا بیمار کے ساتھ اس نے کالم بھی سنا ڈالا ہے اشعار کے ساتھ صرف عاشق ہی نہیں چور بھی ہو سکتا ہے شب کو بیٹھا ہے جو لگ کر تری دیوار کے ساتھ بیویاں چار اگر میرے مقدر میں نہیں کوئی گپ شپ ہی کرادے مری دو چار کے ساتھ ہو گئی حسنِ سماعت کی روایت رخصت اب تو غزلیں بھی سنی جاتی ہیںجھنکار کے ساتھ اتنے ظالم نہ خدا دے کسی عاشق کو رقیب جا کے پرچہ بھی کٹا دیتے ہیں جو مار…

Read More

مولا یا صلِ وسلم ۔قصیدہ ء بردہ شریف:  ترجمہ نگار : سید عارف معین بلے

مولا یا صلِ وسلم ۔قصیدہ ء بردہ شریف  ترجمہ نگار : سید عارف معین بلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (1) جَل اُٹھی کیا شمعِ یادِ دوستانِ ذی سَلَم خونِ دل بہنے لگا آنکھوں سے میری ایک دم (2) جھونکا کوئے کاظمہ سے آیا ہے یا پھر حضور بجلی چمکی، ہوگیا روشن شبستانِ اِضَم (3) ہو گیا کیا؟ جو تری آنکھوں سے جاری ہے جھڑی کیا ہوا ہے؟ دل پہ کیا ٹوٹا ترے کوہِ ستم (4) چُھپ نہیں سکتی محبت‘ ہے عبث تیرا خیال ہے ترے سوزِ دروں کا آئینہ یہ چشمِ نم (5)…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ رباعیات

رباعیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کہ سمٹتی ہی چلی جاتی ہے رشتوں کی تڑپ کس کو تڑپاتی ہے صدیوں کی خامشی ہے اپنوں کو محیط موجود میں محشر کی صدا آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی بھی نہ کر حکایتِ شوق دراز تارِ رگِ جاں سے جل اُٹھے نغمۂ ساز آنسو ٹپکیں تو جسم و جاں جلنے لگیں سانسیں ٹوٹیں تو ٹوٹ جائے آواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھوکا ہے، سراب ہے؟ سزا ہے؟ کیا ہے؟ آئینہ ہے سامنے، خفا ہے؟ کیا ہے؟ خود پر ہی بار بار پڑتی ہے نظر میں ہوں؟ تُو ہے؟ کوئی یا…

Read More

انصر حسن ۔۔۔ جناب امیر (مولا علیؑ) کے حضور

کرتا ہوں اجتناب کہ بندہ علی کا ہوں پیتا نہیں شراب کہ بندہ علی کا ہوں دنیا و دیں کے اور حیات و ممات کے کھلتے ہیں مجھ پہ باب کہ بندہ علی کا ہوں مخفی نہیں ہے کوئی بھی میرا معاملہ میں ہوں کھلی کتاب کہ بندہ علی کا ہوں دنیا کے ساتھ ساتھ میں اپنا بھی دوستو کرتا ہوں احتساب کہ بندہ علی کا ہوں کچھ بھی کہیں یہ لوگ پہ میری نگاہ میں دنیا ہے اک سراب کہ بندہ علی کا ہوں

Read More