جلیل عالی ۔۔۔ سلام

یزیدی عہد ہے امت کی رسوائی نہیں جاتی حسینیت کے دعوے ہیں کہیں پائی نہیں جاتی کوئی جب رزم و بزمِ کربلا کا راز پا جائے تو پھر جو سوچ میں آتی ہے گہرائی نہیں جاتی یہاں جھک جائیں جو سر تاجِ درویشی انھیں زیبا وہ کیا پائیں کہ جن سے بوئے دارائی نہیں جاتی یہ راہِ عشق و مستی ہے میاں اس راہ میں دل کیا قلم سے بھی توازن کی قسم کھائی نہیں جاتی قیام و صبرِ شبیری کا سورج بجھ نہیں سکتا یزیدی جبر کی جب تک…

Read More

سرور حسین نقشبندی ۔۔۔ حسین ابن علیؓ

تو محبت کا پیامی ہے حسین ابن علیؓ تیری جرات کو سلامی ہے حسین ابن علیؓ عظمت آثار ترا نقشِ قدم ہے مولا خواجگی تیری غلامی ہے حسین ابن علیؓ حشر تک سارے یزیدوں کے لیے مرگ اثر آپ کا اسم گرامی ہے حسین ابن علیؓ شائبہ کوئی نہیں اس میں ذرا بھی شر کا خیر ہی خیر تمامی ہے حسین ابن علیؓ تجھ کو جو ذرہ برابر بھی غلط کہتا ہے اس کے ہونے میں ہی خامی ہے حسین ابن علیؓ جامۂ صبر و رضا پہنے سر نوکِ سناں…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ منقبت امام حسینؑ

ہمیں عزیز نہ کیونکر ہو، غم حسین ؑ کا ہے اُسی نواسۂ شاہِ اُمم، حسین ؑ کا ہے ہیں مطمئن،متعین ہے راستہ اپنا ہمارے سامنے نقشِ قدم حسین ؑ کا ہے یہ سانحہ تھا کہ وہ لشکرِ یزید میں تھا یہ معجزہ ہے کہ حُر ہم قدم حسین ؑ کا ہے زباں سے اور قلم سے بیاں کریں جتنا مقام اُس سے کہیں محترم حسین ؑ کا ہے یزید حرفِ غلط تھا، سو مٹ چکا کب کا زمانہ اب بھی خدا کی قسم، حسین ؑ کا ہے یزیدی قوتیں اب…

Read More

سیدفخرالدین بَلّے … منقبت ِ علی المرتضیٰ ؑ

منقبت ِ علی المرتضیٰ ؑ مرا سفینۂ ایماں ہے ، ناخدا بھی علی ؑ مری نماز علی ؑ ہے ، مری دعابھی علی ؑ وجود و واجد و موجود و ماجرا بھی علیؑ شہود و شاہد و مشہود و اشتہا بھی علیؑ ہے قصد و قاصد و مقصود و اقتضا بھی علی ؑ رضا و راضی ، رضی اور مرتضیٰ ؑ بھی علیؑ مرے لئے ہیں سبھی اجنبی علی ؑ کے سِوا مرے لئے تو ہے تمہیدِ اقرباءبھی علیؑ ہے اُس کی ذا ت میں مرکوز عصمتِ تخلیق ابو لائمہ…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ رباعیات

ماحول پہ اِک نشّہ سا چھا جائے گا ہر جذبہ مرادوں کی گھڑی پائے گا اِک لمس کی دولت مجھے مِل جائے گی جب ہاتھ میں میرے تِرا ہاتھ آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقسیمِ محبت میں بھی کچھ غم ہی مِلے پھِر بھی یہ شکایت کہ صلے کم ہی مِلے اے زندگی اِک بات بتانا ہمیں سچ کیا دِل کے دُکھانے کے لیے ہم ہی مِلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے کون سی ایذا جو سرِ دار نہیں لیکن یہ اذیت بھی ہمیں بار نہیں اقرار نہیں جرم اگر ہے کچھ اور ہاں جرمِ…

Read More

اقبال سروبہ ۔۔۔ سلام یا حسین

نام میرے لب پہ آیا جس گھڑی شبیر کا گوشہ گوشہ ہو گیا روشن دلِ دلگیر کا گل ہوئیں باطل کی شمعیں جل اٹھی قندیلِ حق یوں ہوا شہرہ جہاں میں نعرہ تکبیر کا یوں بہتر تن سروں پر باندھ کر نکلے کفن پانی پانی ہو گیا خونِ جگر شمشیر کا اے حسین ابنِ علی تیری شجاعت کو سلام تیرا خوں غازہ بنا اسلام کی توقیر کا آج بھی نادم ہے زنداں عابدِ بیمار سے حلقہ حلقہ رو رہا ہے آج بھی زنجیر کا جب سے رنگیں ہو گئی آلِ…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی

مصیبت کو جب مشکلوں سے گزارا فقط کام آیا خُدا کا سہارا سفینہ جو منجدھار میں ڈولتا تھا اُسی سے ملا ، عافیت کا کنارا یقینِ مکمل ہو ، وہ راہ بر ہے کبھی کارواں پر نہ آئے خسارا ہوں ایثار پیشہ ، سخاوت رَوِش ہو خزانہ وہ دے گا جہانوں کا سارا دلِ مردِ مومن میں وہ جاگزیں ہے ضمیرِ شرافت ہو قائم خُدارا کبھی رُخ نہ موڑیں رُخِ مصطفیٰ سے یہ حُکمِ خدا کا ہے واضح اشارا نہ غیرِ خُدا سے ہمارا ہو ناتہ نہیں شرک ہرگز عقیدہ…

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ سلام

ذکرِ شبیر سے نکل آیا خُون تحریر سے نکل آیا دیکھتا تھا فُرات وہ چشمہ جو رگِ پیر سے نکل آیا گل شدہ اک چراغِ خیمہ بھی بڑھ کے تنویر سے نکل آیا روح نکلی غبار سے دل کے جِسم زنجیر سے نکل آیا وہ شہادت کہ جس میں خوں کی جگہ نور ہر چیر سے نکل آیا اس کو تلوار نے لیا راحت بچ کے جو تیر سے نکل آیا

Read More

انعا م الحق جاوید ۔۔۔ قطعات

ہمت ہار کے مر گیا ہے ، پر بچ سکتا تھا کوشش کرتا تو اس کا پر بچ سکتا تھا تیر جب آیا اس کی سمت تو اُڑتے اُڑتے ہو کر تھوڑا نیچے اوپر بچ سکتا تھا ……٭…… وہ آبنُوس کا کُنڈا یہ زعفران کی شاخ بہت طویل ہے اس خاص داستان کی شاخ یہ وہ دیارِ محبت ہے جس میں اَب اُلٹا درخت کاٹتے پھرتے ہیں باغبان کی شاخ ……٭…… واعظ کا تو پیشہ ہے باتوں کا جال بچھانا کہہ لینے دو جو کچھ ہے اس نے کہنا کہلانا…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ حسن عسکری کاظمی

یہ سچ ہے بلندی پہ ترا عرشِ بریں ہے ہم نے تو جہاں تجھ کو پکارا تو وہیں ہے نظارہ عجب حضرتِ آدمؑ کا دکھایا اک حکم پہ سجدے میں فرشتوں کی جبیں ہے کل انبیا بھیجے گئے جو تیری طرف سے اس ایک حوالے سے مقدس یہ زمیں ہے ممکن نہیں بندوں سے تو برتے کبھی اغماض تجھ سا کوئی مونس، کوئی غمخوار کہیں ہے؟ اک حرف ہے لا جس سے شناسا کیا تو نے میں بندہ ہوں تیرا مرے ہونٹوں پہ نہیں ہے تو ہر جگہ موجود ہے…

Read More