گلزار بخاری ۔۔۔ گیت

آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں لاکھ چھپانا چاہو پھر بھی اپنا آپ دکھا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں سیہج سجے جب من کی کیاری اندر کھلتی ہے پھلواری سانسیں مہک لٹا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں پیار سکھا دیں انسانوں کو شوق ہوا دے ارمانوں کو سوئے خواب جگا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں میٹھے بول حلاوت لائیں مہر محبت جہاں سے پائیں دامن کو پھیلا دیتی ہیں آنکھیں بھید بتا دیتی ہیں قربت چاہے روکے دوری نفرت ہو یا ہو مہجوری ہر دیوار…

Read More

سرور حسین نقشبندی ۔۔۔ ذکر اِلا ّاللہ

جان و دل کی بہار اِلّااللہ روح کو دے قرار اِلّااللہ ایک جلوہ دکھائی دے گا بس جب ہوا آشکار اِلّااللہ ورد کرتا ہے غور سے سُن لے سانس کا تار تار اِلّااللہ خوف و وحشت سے ماورا ہو جا صرف کہہ ایک بار اِلّااللہ چشمہء خیر لاالہ کا ورد برکتوں کا حصار اِلّااللہ عاجزی کا عروج ہے اس میں بندگی کا وقار اِلّااللہ وقت گریہ یہی وظیفہ کر دیدۂ اشکبار اِلّااللہ ایسے دل میں اتر زمانے کے دل میں سرورؔ اُتار اِلّااللہ

Read More

سلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ … سعید راجہ

پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…

Read More

حمد باری تعالی ۔۔۔ نسیمِ سحر

جو بھی لکھتا ہوں سخن پارۂ حمد لب پہ آ جاتا ہے اِک نعرۂ حمد گویا ہو جاتا ہے قرآں گویا ! جو بھی پڑھتا ہوں مَیں سیپارۂ حمد ہفت افلاک سے بھی بالا ہے کیا کہوں رفعتِ مینارۂ حمد ! حمدِ باری کا مَیں جو حرف لکھوں وہی بن جاتا ہے شہ پارۂ حمد پیش منظر ہوں کہ پس منظر ہوں دیدنی سب میں ہے نظّارۂ حمد دے گیا حمد کی سوغات نسیمؔ مہرباں ہو گیا ہر کارۂ حمد

Read More

عقیل رحمانی ۔۔۔ مرثیہ

کرنوں کو جیسے ڈھانپ دے بڑھ کر شبِ سیاہ سورج کے منہ پہ پڑ گئی یوں موت کی ردا شعلوں کا روپ دھار کے چلنے لگی ہوا صحرا کی ریگ بن گئی دامن تنور کا جھونکے ہوا سے آنے لگے خوں کی باس کے کوثر کے وارثوں پہ بھی پہرے تھے پیاس کے حُرؓ اطلس و حریر کے رنگِ جمیل سے سمجھا بلا کی ریگ کو بہتر شنیل سے اک سانس کی بھی بھیک نہ مانگی بخیل سے ٹکرا گیا ہے موت کی اونچی فصیل سے دہلیزِ غم کا تیرے…

Read More

خالق آرزو ۔۔۔ ہائیکو

یہ میرے دو نین ساجن تیری فرقت میں رو رو کرتے بین ………….. کیونکر دیکھے سپنے خاک میں تجھ کو گاڑھیں گے لوگ یہ تیرے اپنے ………………….. دل کا چین بتانے والے تجھ کو اندھا کریں گے اک دن تجھ سے نین لڑانے والے

Read More

عزیز فیصل … سلام

سلام۔۔۔یزید سے ہیں مفادات اس کے وابستہسو اس نے چھوڑ دیا اہلِ بیت کا رستہنہیں ہے مسئلہ اس کا نبی و آل ِنبیکہ فرقہ باز کو درکار ہے فسوں سستارسول ِخیر سے نسبت نہیں ہے نسبت ِعامستم شعار! بہت ہے ترا یقیں خستہجو ریگزار میں آباد کر گئے تھے حسینوہ ایک شہر دلوں میں ہے آج بھی بستااِدھر تھے ابن ِعلی کے فقط بہتر لوگاُدھر تھا جبرو ستم کی سپاہ کا دستہ

Read More

جلیل عالی…. سلام

سلام……بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھےاور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھےچاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھاچور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اور تھےسب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگنکٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھےگو رہِ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کیکربلا میں مگر سُرخرو تھے سوا ، معتبر اور تھےسطحِ صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھیلفظ لیکن لہو…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ سلام بحضور امامِ عالی مقام ؓ

سلام بحضور امامِ عالی مقام ؓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرِ دوام یہ تحریر ہے، نہیں ہے کیا؟ غمِ حُسین ابد گِیر ہے، نہیں ہے کیا؟ کہ زخم زخم اِ سی روشنی سے چمکے گا کہ بُوند بُوند میں تنویر ہے، نہیں ہے کیا؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر تھا، نہیں تھا کیا؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر ہے، نہیں ہے کیا؟ جہاں جہاں بھی رِدا ہے عَلم بناتی ہوئی وہاں وہاں مِرا شبیر ہے، نہیں ہے کیا؟ خراجِ اشک ادا خامشی سے کرتے ہیں کہ آہِ ضبط بھی تشہیر ہے، نہیں ہے…

Read More

خالد احمد ۔۔۔ بجناب امام عالی مقام علیہ السلام

بجناب امام عالی مقام علیہ السلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدّاحیِ شبیرؑ میں آغازِ سخن ہے اجماعِ شرف آج سرِ برجِ دَہن ہے لب ہیں کہ دوپارہ صدفِ صبحِ چمن ہے وہ چال ہے یا حسنِ محبت کا چلن ہے تن ہے کہ مہ و مہر خجل ہوں اُسے دیکھے چہرہ ، سببِ زینت و زیبائشِ تن ہے ہم رنگِ سحر ہے، وہ مہِؑ شامِ غریباں ہم چشمِ غزالانِ بیابانِ ختن ہے اَبرو ہیں کہ قوسین پہ قوسین دھرے ہیں پلکیں ہیں کہ آنکھوں پہ حیا ابر فگن ہے توصیف کرے اصغر ؑ…

Read More