ماجد صدیقی کی یہ غزل جذبات اور احساسات کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اس میں ذاتی دکھ، سماجی ناانصافی اور انسان کے اندرونی و بیرونی تضادات کو سادہ مگر علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے کلام کے ذریعے دکھاتا ہے کہ انسان کے اندر کے درد اور باہر کی سخت حقیقتیں کس طرح آپس میں ٹکراتی ہیں۔
Read MoreTag: اردو شاعری
سرور فرحان ۔۔۔ یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا
یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا پھر بھی ہر شعر ترے ہجر کا نالہ ہو گا آج بھی بھوکے ہی مزدُور کے بچے سوئے کل پہ اُجرت کو کسی شخص نے ٹالا ہو گا تجھ کو کیا علم بچھڑتے ہو ئے تجھ سے میں نے کیسے کیسے دلِ مُضطر کو سنبھالا ہو گا کر کے رُسوا مجھے صحرا میں جو لے آئی ہے زندگی یہ بھی ترے بُغض کا چالا ہو گا ظلم دیکھیں گے مگر بول نہیں پائیں گے یوں سبھی لوگوں کے ہونٹوں پہ…
Read Moreنائلہ راٹھور ۔۔۔ خودفراموشی
خودفراموشی ۔۔۔۔ ضروری نہیں جنہیں ہم زندگی سے زیادہ اہم سمجھتے ہوں ان کے لئے بھی ہم اتنے ہی اہم ہوں کبھی کبھی ہم ساتھ تو ہوتے ہیں لیکن محسوس نہیں ہوتے وقت کے پلوں کے نیچے سے پانی گزر جاتا ہے خامشی روح میں گھر کر لیتی ہے زیست تنہا پسند ہو جاتی ہے ہم خود کو اتنا اکیلا کر لیتے ہیں کہ ہمیں خود کی بھی ضرورت نہیں رہتی اپنی ذات سے لاتعلقی بھی کبھی کبھی نعمت لگتی ہے درد ہوتے ہوئے بھی محسوس نہیں ہوتا ہجر و…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ آزادہ منش رہ دنیا میں پروائے امید و بیم نہ کر
جوش ملیح آبادی کی یہ غزل پرانی زنجیروں کو توڑ کر انسان کو آزادی اور ہمت کی نئی روشنی دکھاتی ہے۔ غزل کا لب و لہجہ اسے غزل کی روایت سے کوسوں دور کرتا محسوس ہوتا ہے۔
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے
عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے عشق کا نام محبت ہے، محبت کیجے آئیں، اک بار مجھے دیکھ کے دیکھیں خود کو آئنہ بدلا نظر آئے تو حیرت کیجے ہار جانے پہ یوں شرمندہ نہیں ہونا ہے دوسرا دیتی ہوں موقع۔۔۔ذرا ہمت کیجے خود بڑے ہونے کا احساس نہ ہونے دیں اْنہیں گھر میں چپ چاپ پڑے رشتوں کی عزت کیجے زندگی اپنی محبت کے لیے ہی کم ہے آپ کو کس نے سکھایا ہے کہ نفرت کیجے فیصلہ دیجے جو حق والوں کے حق میں جائے مصلحت…
Read Moreعرفان صادق ۔۔۔ خشک پتا بھی گرے صحن میں ڈر جاتا ہوں
خشک پتا بھی گرے صحن میں ڈر جاتا ہوں شام ہوتے ہی میں سناٹوں سے بھر جاتا ہوں ٹیک جو مجھ سے لگائے کھڑے ہیں گر نہ پڑیں اس لیے پاؤں بدلتے ہوئے ڈر جاتا ہوں شام کی بانجھ ہتھیلی پہ چراغوں کی لویں تھرتھراتی ہیں تو میں خوف سے بھر جاتا ہوں جب جلاتی ہے مجھے لوگوں کے لہجوں کی تپش تری یادوں کے سمندر میں اتر جاتا ہوں ویسے اس عمر میں کچھ یاد کہاں رہتا ہے ویسے اک نام جو سن لوں تو ٹھہر جاتا ہوں جس…
Read Moreمہر علی ۔۔۔ مہتابِ نیم ، زرد ستارہ دکھائی دے
نوجوان شاعر مہر علی کی یہ غزل اپنی نکہت آفریں شاعرانہ لطافت اور دل پذیر اسلوب کے ساتھ حسنِ منظر نگاری اور رومانوی کیف کو ہم آہنگ کر دیتی ہے۔ اس کے مصرعوں میں امید کی نازک سی کرن یوں فروزاں ہے کہ قاری کو مسرّت و حُسن کا سرور عطا کرتی ہے، تاہم ساتھ ہی انسانی آرزوؤں کی شکست و ریخت اور قوت کی محدودیت کو نہایت بلیغ انداز میں آشکار کرتی ہے۔
Read Moreافتخار شاہد ۔۔۔ سورج ہمارے بخت کا ایسے بھی ڈھل گیا
افتخار شاہد کی یہ غزل روایتی عشقیہ مضامین کو دلنشیں استعارات اور خوش آہنگ پیرایۂ اظہار میں سموئے ہوئے ہے، تاہم مجموعی سطح پر تازگیِ مضمون اور فکری امتیاز کے اعتبار سے کچھ ناتواں محسوس ہوتی ہے۔
Read Moreاعجاز دانش ۔۔۔ مجھے وہ بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں
مجھے وہ بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں نظر سے دور ہوا ہے تو کوئی بات نہیں کہاں ہر اک کا مقدر ہے آبلہ پائی جو زخم زخم ہرا ہے تو کوئی بات نہیں چراغِ فکر جلائیں گے محفلِ شب میں دیا بجھا کے گیا ہے تو کوئی بات نہیں چلے گی ٹھنڈی ہوا بھی، یقینِ کامل ہے چمن میں گرم ہوا ہے تو کوئی بات نہیں یہی ہے عشق کا تریاق ہم بھی کہتے ہیں جو اس نے زہر پیا ہے تو کوئی بات نہیں یہ اختلاف محبت…
Read Moreرخشندہ نوید ۔۔۔ دو غزلیں
مشکل روڑہ بن جاتا ہے ملن بچھوڑہ بن جاتا ہے آنسو ، آنسو مل کے سمندر یونہی تھوڑا بن جاتا ہے اتنا تیز دھڑکتا یہ دل پاگل گھوڑا بن جاتا ہے چار اطراف ، نکیلے پتھر حرف ، ہتھوڑا بن جاتا ہے انجانے دو انسانوں کا فلک پہ جوڑا بن جاتا ہے کینسر بعد میں ، دکھ کا پہلے بدن میں پھوڑا بن جاتا ہے موم کے اک پتلے سا انساں جدھر کو موڑا، بن جاتا ہے رخشندہ ! محبوب تمھارا ایک بھگوڑا بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ درد و غم…
Read More